گجرات فسادات 2002 میں سیاستدانوں کی مبینہ ’’ سازش‘‘ ۔ تیستا سیتلواد کا الزام

شہری حقوق کارکن شریمتی تیستا سیتلواد نے آج کہا ہے کہ گجرات کے فسادات (2002) کے دوران فوج کی تعیناتی کے بارے میں لفٹننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ (ریٹائرڈ) نے جو انکشافات کئے ہیں‘ اُن سے ’’ ہمارے بیانات کی توثیق ہوتی ہے‘‘۔ یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا تیستا سیتلواد‘ اُس وقت کے چیف منسٹر گجرات نریندرمودی اور دیگر بااثر سیاستدانوں اور سرکاری عہدیداروں کیخلاف فوجداری مقدمہ چلانے کی مانگ کرنے والی شریک درخواست گذار ہیں۔ مذکورہ فسادات میں مبینہ ’’ سازش‘‘ کے سلسلہ میں سیتلواد نے فوجداری کیس چلانے کی مانگ کی ہے۔ 56سالہ شہری حقوق کارکن نے ایک ای میل میں آئی اے این ایس کو بتایاکہ ’’ لفٹننٹ جنرل ( شاہ) (ریٹائرڈ) نے جو انکشافات کئے ہیں اُن سے‘ ذکیہ جعفری کیس میں ‘ ہم جو کچھ کہتے آرہے ہیں اُس کی توثیق ہوتی ہے‘‘۔ (ذکیہ جعفری کیس‘ 12سال سے عدالتوں میں ہنوز زیر دوراں ہے)۔سیتلواد نے بتایاکہ 8اگست 2006 کو ‘ شکایت کے اندراج کے وقت ’’ گجرات اسٹیٹ پولیس سے اساس رپورٹس پیش کی گئی تھی ‘‘ جن میں پولیس عہدیداروں کے حلفنامے اور محکمہ داخلہ کے ریکارڈس شامل تھے۔ 15اپریل 2013 کو متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے جو پروٹیسٹ درخواست داخل کی گئی تھی اُس میں تحقیقاتی کاغذات کا حوالہ دیا گیاتھا۔ یہ تحقیقاتی ریکارڈ‘ 24ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ ’’ اب ہمارے پاس ضمیر الدین شاہ کا بیان بھی ہے‘‘۔ سیتلواد نے مزید کہاکہ ’’ آرکے راگھون کی زیرقیادت خصوصی تحقیقاتی ٹیم ‘ تحقیقات کا ایک مذاق تھی۔ اِس تحقیقاتی ٹیم نے دستاویزی ثبوت کو بھی خاطر میں نہیں لایا ۔ ذکیہ جعفری اور خود میرے بیانات کے باوجود (جو بحیثیت شریک درخواست گذاران2009 میںریکارڈ کئے گئے تھے ) متعلقہ حکام نے ضمیر الدین شاہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا۔ یہ بیان کیوں ریکارڈ نہیں کیا گیا‘ اب اس کے فیصلوں کو ہم ہندوستان کی عدالتوں پر چھوڑتے ہیں‘‘۔ ذکیہ جعفری نے حکومت گجرات کیخلاف مقدمہ میں 30الزامات کے منجملہ یہ الزام بھی لگایاکہ ’’ فوج کی طلبی اور تعیناتی میں نامناسب تاخیر ہوئی‘‘۔

جواب چھوڑیں