گجرات میں تارکین وطن ورکرس کے خلاف تشدد ۔چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو ریاستی انسانی حقوق کمیشن کی نوٹس

گجرات کے ریاستی انسانی حقوق کمیشن (جی ایس ایچ آر سی) نے آج ریاستی چیف سکریٹری اور ڈائرکٹر جنرل پولیس کو نوٹسیں جاری کرتے ہوئے ہندی بولنے والے تارکین وطن ورکرس پر حملوں اور ان کی اجتماعی نقل مکانی کے بارے میں رپورٹس طلب کی ہیں ۔ جی ایس ایچ آر سی کی صدرنشین جسٹس (ریٹائرڈ) ابھیلاشا کماری نے گاندھی نگر میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ اندرون 20 یوم رپورٹس پیش کرنی ہوں گی ۔ چیف سکریٹری جے این سنگھ اور ڈی جی پی شیوا نند جھا کو نوٹسیں جاری کی گئی ہیں اور ریاست میں حملوں کا نشانہ بننے والے تارکِ وطن ورکرس کے تحفظ کو یقینی بنانے اقدامات پر رپورٹ طلب کی گئی ہیں ۔ جسٹس (ریٹائرڈ) ابھیلاشا کماری نے مزید کہا کہ چیف سکریٹری اور ڈی جی پی سے کہا گیا ہے کہ وہ ان اقدامات کی وضاحت کریں جو ریاست میں امن و امان کی برقراری اور نشانہ بنائے جانے والے افراد کے تحفظ کے لیے کیے جارہے ہیں۔ یہاں سے تقریباً 100 کلو میٹر فاصلہ پر واقع ضلع سابر کنٹھا میں28ستمبر کو 14 ماہ کی ایک لڑکی کی مبینہ عصمت ریزی اور اس جرم کے سلسلہ میں بہار سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور کی گرفتاری کے بعد شمالی گجرات میں ہندی بولنے والے افراد کے خلاف تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔ بہار سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور رویندر ساہو کو جو مقامی سیرامک فیکٹری میں برسرکار تھا ، اسی دن عصمت ریزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اترپردیش ، بہار اور مدھیہ پردیش کے ہزاروں افراد ان حملوں کے بعد ریاست سے فرار ہوچکے ہیں۔ مملکتی وزیر داخلہ پردیپ سنہہ جڈیجہ نے کل کہا تھا کہ متاثرہ اضلاع میں 61 مقدمات درج کرتے ہوئے تا حال 533 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ قبل ازیں صدر کانگریس راہول گاندھی نے ہندی بولنے والے تارکین وطن کی اجتماعی نقل مکانی کا مسئلہ اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ راجستھان ، مدھیہ پردیش اور اترپردیش کے ورکرس کو ریاست چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ بہرحال چیف منسٹر وجئے روپانی نے کل سوال کیا تھا کہ آیا راہول گاندھی اپنی پارٹی کے ارکان کے خلاف کارروائی کریںگے جو گجرات میں تارکین وطن پر حملوں میں ملوث ہیں ۔ بی جے پی ، کانگریس کے رکن اسمبلی الپیش ٹھاکر اور ان کی تنظیم گجرات شتریہ ٹھاکر سینا کو تشدد پھوٹ پڑنے کے لیے موردِ الزام ٹھہرا رہی ہے ۔

جواب چھوڑیں