امریکی تاریخ کا ہولناک سمندری طوفان،250کلو میٹرفی گھنٹہ کی رفتار سے طوفانی ہوائیں

امریکی تاریخ کا ہولناک سمندری طوفان مائیکل ریاست فلوریڈا سے ٹکرا گیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سمندری طوفان مائیکل ریاست فلوریڈا کے ساحلی شہر میامی سے ٹکرا گیا جس نے پوری ریاست میں تباہی مچا دی، طوفانی بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ۔ طوفان سے ایک شخص ہلاک، کئی زخمی جب کہ امدادی کارروائیوں میں مشکلات درپیش ہیں۔فلوریڈا کے ساحلی علاقوں میں بیشتر درخت اور بجلی کے کھمبے گر گئے ، 250 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آندھی اور کئی گھروں کی چھتیں اڑ گئیں۔ بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا، تعلیمی ادارے ، دفاتر اور کئی ایئرپورٹس بھی بند کر دیے گئے ۔ وائس آف امریکہ کے مطابق 2 لاکھ گھر اور کاروباری ادارے بجلی سے محروم ہوگئے تاہم کیٹگری 5 کے طوفان مائیکل کے بعد علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے ۔ ادھر امریکی حکام نے ریاست فلوریڈا میں 5 لاکھ افراد کو فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کی ہدایت دی ہے ۔ حکام کے مطابق طوفان سے سمندری لہریں 14 فٹ تک بلند ہو سکتی ہیں جبکہ سمندری طوفان سے صورتحال انتہائی خطرناک ہے ۔ اس کے علاوہ فلوریڈا میں سمندری طوفان پر جارجیا اور الابامہ میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ مائیکل امریکا کی 50 سالہ تاریخ کا بدترین سمندر طوفان ہے اور مائیکل طوفان سے اب تک 14 افراد ہلاک ہو چکے ۔قبل ازیں موصولہ اطلاع کے بموجب مائیکل نامی سمندری طوفان نے امریکی ریاست فلوریڈا کے علاقے پان ہینڈل میں تباہی مچائی ہے۔ امریکہ کے سمندری طوفانوں پر نظر رکھنے والے مرکز کے مطابق یہ گزشتہ کئی دہائیوں کا طاقتور ترین سمندری طوفان ہے۔ حکام نے بتایا کہ گرینزبرو نامی شہر میں ایک درخت گرنے کے سبب ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں لاکھوں گھر بجلی سے محروم ہیں۔ فلوریڈا کے گورنر رِک اسکاٹ نے امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقے میں روانہ کر دی ہیں۔ یہ طوفان اب ہمسایہ ریاست جارجیا کی طرف بڑھ رہا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اب اس کی شدت میں کمی واقع ہو گی۔امریکی حکام کے مطابق مائیکل گزشتہ 80 سال کے دوران فلوریڈا سے ٹکرانے والا سب سے شدید اور حالیہ تاریخ میں امریکہ سے ٹکرانے والا تیسرا شدید ترین طوفان تھا۔سمندری طوفان مائیکل فلوریڈا اور جارجیا میں تباہی مچانے کے بعد اب جنوبی اور شمالی کیرولائنا کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن طوفان کی شدت میں نمایاں کمی آچکی ہے۔مائیکل بدھ کی دوپہر فلوریڈا کے ساحل سے ٹکرایا تھا۔ زمین سے ٹکرانے سے قبل طوفان کی شدت ‘کیٹیگری 2’ سے بڑھ کر ‘کیٹیگری 4’ ہوگئی تھی جو انتہائی شدت کے طوفان سے صرف ایک درجہ کم تھی۔امریکی حکام کے مطابق مائیکل گزشتہ 80 سال کے دوران فلوریڈا سے ٹکرانے والا سب سے شدید اور حالیہ تاریخ میں امریکہ سے ٹکرانے والا تیسرا شدید ترین طوفان تھا۔طوفان جب فلوریڈا کی ‘پین ہینڈل’ کے نام سے معروف شمال مغربی ساحلی پٹی سے ٹکرایا تھا تو اس کی ہواوؤں کی شدت 249 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ طوفان کے باعث 13 فٹ تک بلند لہریں ساحلی علاقوں سے ٹکرائی تھیں۔طوفان کے بعد 320 کلومیٹر طویل اور 80 سے 160 کلومیٹر چوڑی پین ہینڈل پٹی کے علاقوں میں ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں۔سڑکیں طوفانی ہواوؤں کے باعث اکھڑنے والے درختوں، کھمبوں اور مکانات کے ملبے سے اٹی ہوئی ہیں جب کہ کئی نشیبی ساحلی علاقوں میں تاحال پانی کھڑا ہے۔حکام کے مطابق فلوریڈا، الاباما اور جارجیا کی ریاستوں کے طوفان سے متاثر ہونے والے علاقوں میں بدھ کی شام تک ایسے گھروں کی تعداد چار لاکھ سے بڑھ چکی تھی جہاں بجلی کی ترسیل معطل تھی۔طوفان کے ٹکرانے کے وقت فلوریڈا کے مشہور سیاحتی مقام میکسیکو بیچ پر واقع مکانات چھتوں تک سیلابی پانی میں ڈوب گئے تھے۔حکام کے مطابق میکسیکو بیچ کے ان 280 رہائشیوں کے متعلق تاحال کوئی اطلاع نہیں ہے جنہوں نے انخلا کے احکامات کے باوجود علاقہ چھوڑنے سے انکار کردیا تھا۔طوفان کی آمد سے قبل فلوریڈا کی حکومت نے طوفان کے راستے میں پڑنے والوں علاقوں کے پانچ لاکھ رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر نقل مکانی کا حکم دیا تھا۔لیکن امدادی تنظیم ‘ریڈ کراس’ نے کہا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق تین لاکھ سے زائد رہائشیوں نے اپنے علاقوں سے انخلا کے احکامات نظر انداز کردیے تھے۔طوفان سے اب تک دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے ایک شخص فلوریڈا جب کہ ایک 11 سالہ بچی جارجیا میں مکانات پر درخت گرنے سے ہلاک ہوئے۔حکام کا کہناہے کہ طوفان سے ہونے والے مالی نقصان کا درست اندازہ جمعرات کے بعد ہوگا۔ متاثرہ علاقوں میں لوٹ مار روکنے کے لیے بدھ کی شام سے کرفیو نافذ ہے۔

جواب چھوڑیں