ایم جے اکبر پر 7خواتین کے جنسی ہراسانی کے الزامات

حکومت میں منسٹر آف اسٹیٹ برائے امور خارجہ ایم جے اکبر کا موقف ‘غیر مستحکم نظر آتا ہے۔ باخبر ذرائع نے بتایاکہ اکبر کیخلاف ‘ جو ماضی میں ایک ایڈیٹر رہ چکے ہیں‘ جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہے اور بہت جلد کوئی بڑی بات رونما ہوسکتی ہے۔ یہ صورتحال‘ کم از کم 7خواتین کی جانب سے اکبر پر لگائے گئے جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد سامنے آئی ہے۔ مذکورہ خواتین نے الزام لگایاکہ ایم جے اکبر نے اُنہیں اُس وقت جنسی طورپر ہراساں کیا تھا جب وہ ایک اخبار کے ایڈیٹر تھے۔ ایم جے اکبر نے جو ‘ ا ِن دنوں ہندوستان کے باہر سفر کررہے ہیں‘ مذکورہ الزامات پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ این ڈی ٹی وی کی اطلاع کے بموجب باخبر ذرائع نے بتایاکہ اکبر سے یہ خواہش نہیں کی گئی ہے کہ وہ اپنا دورہ مختصر کریں اور استعفیٰ دیں البتہ ’’ ایسی قیاس آرائیاں ہیں‘‘۔ موصولہ اطلاع میں کہا گیا کہ عہدیداروں نے بتایاہے کہ اکبر جو ایکویٹوریا میں ہیں ‘ امکان ہے کہ آئندہ اتوار ہی کو واپس ہوں گے۔ یہ بھی بتایاجاتا ہے کہ جب وہ واپس ہوں گے تب اُن کا بیان بھی سنا جائے گا۔ اُن کیخلاف ا ب تک کوئی رسمی شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے۔ سا بق ایڈیٹر ( باس) کیخلاف خاتون صحافیوں کے الزامات ایک ایسے وقت ابھر کر سامنے آئے ہیں جب ہندوستان میں ’’ می ٹو تحریک‘‘ زور پکڑ رہی ہے اور اِس تحریک نے ملک و میڈیا صنعت کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ باخبر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اکبر سے ‘ وزار ت سے استعفیٰ دینے اور پارٹی کیلئے کام کرنے کی خواہش کی جاسکتی ہے۔ اکبر نے جو ایک سینئر صحافی ہیں‘ 2014 کے عام انتخابات سے قبل بی جے پی میں شریک ہوئے اور ایک سال بعد راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہوئے۔ اپریل 2016 میں اُنہیں منسٹر آف اسٹیٹ امور خارجہ بنایاگیا۔ مذکورہ صورتحال سے واقف کار لوگوں نے یہ بھی بتایاکہ حکومت‘ بین ا لاقوامی فورموں میں اپنے موافق خواتین امیج کے بارے میں سنجیدہ ہے اور اِس طرح وہ کسی ایسے شخص کو عہدہ پر برقرارنہیں رہ سکتی جس کا امیج داغدار ہوا ہے اور جو ملک کے باہر‘ ملک کی نمائندگی کررہا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ سشما سوراج نے مذکورہ الزامات پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ صرف منیکا گاندھی نے ‘ جو وزیر بہبود خواتین واطفال ہیں‘ تحقیقات کی اپیل کی ہے۔

جواب چھوڑیں