جماعت اسلامی کی جانب سے عوامی منشور کی اجرائی

پریس کانفرنس برائے اجرائی منشور اسمبلی انتخابات ریاست تلنگانہ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ حامد محمد خان نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند نے ہمیشہ انتخابات اور ووٹوں کی اس اہمیت کو پیش نظر رکھا ہے اور ایسے موقعو ں پر عوامی منشور کو پیش کیا ہے ۔ عوامی منشور میں ایک اچھی حکومت کیلئے کچھ عملی تجاویز اور کچھ ایسے مطالبات پیش کئے جارہے ہیں جن کی تکمیل کے ذریعہ ریاست تلنگانہ ایک بہتر، پرامن اور خوشحال ریاست بن سکتی ہے ۔ انہوںنے اس موقع پر لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس منشور کی بھر پور تائید کریں اور انہی امیدواروں اور پارٹیوں کو اپنا ووٹ دیں جو اس منشور میں پیش کردہ تجاویز اور مطالبات کی تکمیل کا عہد کریں۔ ریاست تلنگانہ کے موجودہ انتخابات2018 میں عوامی تائید کی خواہش مند سیاسی پارٹیاں درج ذیل عوامی مطالبات کی تکمیل کا واضح الفاظ میں وعدہ کریں تاکہ درج بالا مقاصد کا حصول ممکن ہوسکے ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ نوجوانوں کیلئے ملازمتوں کی فراہمی، کسانوں ، زرعی مزدوروں اور دیہی معیشت کی مستحکم ترقی، تمام کسانوں کو ہر فصل سے پہلے کھیتی کیلئے درکار سرمایہ بلا سودی قرض کی فراہمی اور دیہی علاقوں میں نجی فائنا نسروں ، ساہوکاروں کے داخلے پر پابندی عائد کرے ۔ ان مسائل کے حل کیلئے سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات کو روبہ عمل لایا جائے ۔ حکومت سری کرشنا کمیشن کی سفارشات اور سپریم کورٹ کی تجاویز کی روشنی میں پولیس نظام میں اصلاحات کو یقینی بنائے اور اس کے مطابق پولیس فورس میں آبادی کے تناسب سے اقلیتوں کی بھی بھرتی کی جائے ۔سماج کو پرامن اور نظم وقانون پر برقرار رکھنے کیلئے فرقہ وارانہ وذات پات کی منافرت، تشدد ، فسادات اور ہجومی تشدد جیسے مسائل سے سختی سے نمٹا جائے ۔ریاستی بجٹ میں ایسی سی ؍ ایس ٹی طبقات کی طرح اقلیتوں کیلئے بھی سب پلان بنایا جائے تاکہ اقلیتوں کی منصوبہ بند اور مستحکم ترقی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ ریاست تلنگانہ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی کے ذیلی کیمپس قائم کئے جائیں تاکہ اقلیتوں کو اعلیٰ تعلیم کے مزید مواقع حاصل ہوسکیں۔مجوزہ ویمنس یونیورسٹی ( کوٹھی ویمنس کالج ) کو ’’ خیر النساء ویمنس یونیورسٹی ‘‘ کے نام سے موسوم کیا جائے ۔ جنہوں نے اپنی مذکورہ جائیداد کوٹھی ویمنس کالج کو بطور عطیہ دی تھی ۔ سماجی ، معاشی ، تعلیمی اور سیاسی میدان میں مسلمانوں کی شدید پسماندگی کو تسلیم کیا جائے اور ریاست ٹاملناڈو کے خطوط پر آبادی میں ان کے تناسب کے لحاظ سے12فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں ۔ اس کے علاوہ رنگناتھ مشرا کمیشن اور سدھیر کمیشن کی سفارشات کے مطابق مختلف بورڈس، کارپوریشنوں، سلیکشن کمیٹیوں اور نمائندہ مجالس میں بھی ان کے لئے تحفظات کو یقینی بنایا جائے ۔تمام اردو میڈیم اسکولوں کی صورتحال کوبہتر بنایا جائے ۔ ان میں ضروری انفرااسٹرکچر فراہم کیا جائے ۔ تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کئے جائیں ۔ حکومت کی جانب سے فراہم فلاحی اسکیمات سے استفادہ کیلئے طے شدہ حدآمدنی کو2لاکھ سے بڑھا کر 6لاکھ کردیا جائے ۔ ملک میں مسلمانوں کے مذہبی تشخص اور مادی وجود کو نقصان پہنچانے کیلئے کسی بھی سطح پر ہونے والی تمام کوششوں، مثلاً مسلم پرسنل لا میں مداخلت یا آسام میں مسلمانوں کی شہریت کے خاتمہ کی کوشش وغیرہ کی مخالفت کی جائے اور اسے روکنے کیلئے اپنی سطح پر مناسب اقدامات کئے جائیں ۔ مسلمانوں اور اقلیتوں کے بجٹ کے استعمال اور فلاحی اسکیمات کی عمل آوری کا جائزہ لینے کے لئے مختلف مسلم جماعتوں اور این جی اوز پر مشتمل ایک بااختیار کمیٹی تشکیل دی جائے اور وزیراقلیتی بہبود کی نگرانی میں پابندی کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کئے جائیں ۔

جواب چھوڑیں