خشوگی کی گمشدگی معمولی بات نہیں: ٹرمپ

امریکی سینیٹ کے 22 ارکان نے صدر ٹرمپ کو سعودی صحافی جمال خشوگی کی ترکی میں مبینہ گمشدگی کے بارے میں خط لکھا ہے جبکہ صدر ٹرمپ نے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ امریکی سینیٹرز کی جانب سے خط تحریر کیے جانے کے بعد اب امریکہ جمال خشوگی کی گمشدگی کے حوالے سے باضابطہ تحقیقات کرے گا اور اگر یہ ثابت ہو گیا کہ اس معاملے میں سعودی حکومت ملوث ہے تو صدر ٹرمپ کو سعودی عرب پر (گلوبل میگنٹسکی ہیومن رائٹس ایکٹ کے تحت) پابندیاں لگانی ہوں گی۔ جمال خشوگی ایک سعودی شہری ہیں اور وہ امریکہ میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ انھیں دو اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں داخل ہوتے دیکھا گیا تھا جس کے بعد سے ان کا کچھ اتا پتا نہیں۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ انھیں قونصلیٹ میں ہی قتل کر دیا گیا تاہم سعودی حکام مْصر ہیں کہ وہ واپس چلے گئے تھے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ خشوگی کے معاملے کی تہہ تک پہنچ کر رہیں گے۔ انھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انھوں نے جمالخشوگیکے بارے میں سعودی حکام سے ‘اعلیٰ ترین سطح’ پر بات بھی کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا: ‘ہم کسی کو بھی رپورٹروں کے ساتھ ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہم ہر چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم دیکھنا چاہتے کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔’ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو اور دوسرے سینیئر حکام نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے منگل کو بات کر کے ان سے اس صورتِ حال کے بارے میں مزید معلومات طلب کی ہیں۔ ترک میڈیا نے سعودی عرب کے معروف صحافی جمال خشوگی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی جاری کی ہے۔ اس ویڈیو میں مبینہ سعودی انٹیلیجنس افسران کو استنبول ہوائی اڈے کے ذریعے ترکی میں داخل ہوتے اور روانہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ترکی کے نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ چینل پر نشر ہونے والی ویڈیو بظاہر سکیورٹی کیمروں کی مدد سے بنائی گئی ہے۔ اس فوٹیج میں ان کالی ویگنوں کو قونصل خانے کی جانب جاتے دیکھا جا سکتا ہے جو کہ اس تفتیش میں مرکزی اہمیت رکھتی ہیں۔ سعودی مردوں کا ایک گروہ ترکی میں داخل ہوتے، ہوٹل میں وقت گزارتے اور پھر ملک چھوڑتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ گروہ ایک خصوصی سعودی طیارے سے ترکی آیا۔ جمال خشوگی قونصل خانے میں اپنی طلاق کے معاملات طے کرنے کے لیے گئے تھے تاکہ وہ اپنی ترک منگیتر خدیجہ چنگیز سے شادی کر سکیں۔ ویڈیو میں انھیں قونصل خانے میں داخل ہوتے دیکھا گیا اور ان کی منگیتر باہر انتظار کر رہی ہیں۔ برطانیہ کے وزیرِ خارجہ نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ برطانیہ جمال خشوگی کے حوالے سے جوابات کا منتظر ہے۔ سعودی وزیرِ خارجہ عبد الجبیر سے بات کرتے ہوئے جرمی ہنٹ کا کہنا تھا کہ ’دوستیاں مشترکہ اقدار پر منحصر ہوتی ہیں۔‘ اقوام متحدہ کے ماہرین نے ایک ’فوری آزاد اور بین الاقوامی‘ تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے سعودی ولی عہد نے بلومبرگ نیوز کو بتایا تھا کہ ان کی حکومت یہ جاننے میں بہت دلچسپی رکھتی ہے کہ جمال خشوگی کو ہوا کیا ہے۔ ایک زمانے میںخشوگی سعودی عرب کے شاہی خاندان میں مشیر ہوا کرتے تھے لیکن پھر وہ تیزی سے سعودی حکومت کی نظرِ عنایت سے دور ہوتے گئے یہاں تک کہ گذشتہ سال سے وہ خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے لگے۔ جمال خشوگی سنہ 1958 میں مدینہ میں پیدا ہوئے اور انھوں نے امریکہ کی انڈیانا یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی تھی۔ اس کے بعد وہ سعودی عرب لوٹ آئے اور ایک صحافی کے طور پر سنہ 1980 کی دہائی میں اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ انھوں نے ایک مقامی اخبار میں سوویت روس کے افغانستان پر حملے کی رپورٹنگ سے اپنی صحافت شروع کی۔ اس دوران انھوں نے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن پر قریب سے نظر رکھی اور سنہ 1980 اور 90 کی دہائیوں میں کئی بار ان سے انٹرویو کیا۔ اس کے بعد سے انھوں نے خطٔ عرب میں رونما ہونے والے دوسرے اہم واقعات کی رپورٹنگ بھی کی جن میں کویت کے معاملے پر ہونے والی خلیجی جنگ بھی شامل تھی۔ سنہ 1990 کی دہائی میں وہ پوری طرح سعودی عرب منتقل ہو گئے اور سنہ 1999 میں وہ انگریزی زبان کے اخبار ‘عرب نیوز’ کے نائب مدیر بن گئے۔ سنہ 2003 میں وہ ‘الوطن’ اخبار کے مدیر بنے لیکن عہد سنبھالنے کے دو ماہ کے اندر ہی انھیں ایک کہانی شائع کرنے کی وجہ سے وہاں سے نکال دیا گیا۔ اس میں سعودی عرب کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ برطرفی کے بعد پہلے لندن اور پھر واشنگٹن منتقل ہو گئے جہاں وہ سعودی عرب کے سابق انٹیلیجنس چیف شہزادہ ترکی کے میڈیا مشیر بن گئے۔ اس کے بعد وہ سنہ 2007 میں پھر الوطن میں واپس آئے لیکن تین سال بعد مزید تنازعات کے بعد انھوں نے اخبار کو چھوڑ دیا۔ سنہ 2011 میں پیدا ہونے والی عرب سپرنگ تحریک میں انھوں نے اسلام پسندوں کی حمایت کی جنھوں نے کئی ممالک میں اقتدار حاصل کیا۔ سنہ 2012 میں انھیں سعودی عرب کی پشت پناہی میں چلنے والے العرب نیوز چینل کی سربراہی کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس چینل کو قطری نیوز چینل الجزیرہ کا حریف کہا جاتا ہے۔ لیکن بحرین میں قائم کیا جانے والا نیوز چینل سنہ 2015 میں اپنے آغاز کے 24 گھنٹوں کے اندر ہی بحرین میں حزب اختلاف کے ایک معروف رہنما کو مدعو کرنے کے سبب بند کر دیا گیا۔ سعودی امور پر ماہرانہ رائے رکھنے کی حیثیت سے جمال خشوگی بین الاقوامی سطح پر مختلف نیوز چینلوں کو مستقل طور پر اپنی خدمات فراہم کرتے رہے۔ سنہ 2017 کے موسم گرما میں وہ سعودی عرب چھوڑ کر امریکہ منتقل ہو گئے تھے۔

جواب چھوڑیں