مسلم خواتین کو مساجد میں داخلے کی اجازت دینے سے متعلق درخواست خارج

کیرالا ہائیکورٹ نے آج ایک ہندو گروپ کی وہ درخواست مفاد عامہ (پی آئی ایل) خارج کردی جس میں مسلم خواتین کو عبادات کی ادائیگی کیلئے مساجد میں داخل ہونے کی اجازت دینے کی مانگ کی گئی تھی۔ چیف جسٹس رشی کیش رائے اور جسٹس اے کے جیہ شنکرن نمبیار نے یہ کہتے ہوئے مذکورہ درخواست کو مسترد کردی کہ درخواست گذار نہ تو کوئی ناراض فریق ہے اور نہ ہی اُس کے حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ درخواست گذار سوامی دتاتریہ سائی سروپ ناتھ (صدر اکھل بھارت ہندو مہاسبھا‘ کیرالا یونٹ) نے سپریم کورٹ کے ایک حالیہ حکم کا حوالہ دیا تھا جس کے ذریعہ سابری مالا میں لارڈ ایپا کے مندر میں 15سال اور اُس سے زائد عمر کی خواتین پر سے داخلہ پر سے امتناع اُٹھالیا گیا ہے۔ درخواست گذار نے عدالت سے مانگ کی تھی کہ مرکز کو ایک ایسا حکم جاری کرنے کی ہدایت دی جائے کہ جس کے تحت مسلم خواتین ‘ مساجد میں نماز ادا کرسکیں۔ اُنہوںنے استدلال پیش کیا تھا کہ مسلم خواتین کیخلاف ’’ امتیاز ‘‘ برتا جارہا ہے اور اِن خواتین کو مساجد کے اصل نماز ہال میں داخل ہونے اور عبادت کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ یہ صورتحال دستور کی دفعہ 14اور21کیخلاف ہے۔درخواست گذار نے یہ بھی کہاکہ مسلم خواتین کو مکہ ( معظمہ) میں داخلہ کی اجازت ہے۔ سائی سوروپ ناتھ نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ مسلم خواتین کیلئے پردہ( حجاب) جیسے ڈریس کوڈ کے نفاذ سے غیر سماجی عناصر کو اِس پردہ کا بے جا استعمال کرنے اور جرائم کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ ( ڈریس کوڈ‘ شخصی آزادی اور سماجی سیکورٹی کو چھیننے کے مترادف ہے)۔

جواب چھوڑیں