مودی نے 2002ء میں گجرات میں قبل از وقت انتخابات کا فیصلہ کیوں کیا تھا: ایم پی بی ونود کمار

تلنگانہ راشٹریہ سمیتی (ٹی آر ایس) نے بی جے پی کے صدر امیت شاہ کی جانب سے ریاست میں قبل از وقت انتخابات کے پارٹی صدر کے چندرشیکھر رائو کے فیصلے پر سوال اٹھائے جانے پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے (کے سی آر) وہی کیا جو 2002ء میں گجرات کے اس وقت کے چیف منسٹر نریندر مودی نے کیا تھا۔ کریم نگر میں بی جے پی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے شاہ نے نگرانگار وزیراعلیٰ رائو کو یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ قبل از وقت انتخابات کے فیصلے سے ریاست کے عوام پر سیکڑوں کروڑ روپیوں کا اضافہ بوجھ عائد ہوگیا۔ شاہ نے کے سی آر پر مودی سے خوفزدہ ہو کر یہ فیصلہ لینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اگر لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ریاستی انتخابات ہوتے تو یہاں مودی کا اثر ہوتا۔ تلنگانہ کے اسمبلی انتخابات7؍ دسمبر کو منعقد ہوں گے۔ رائو کی سفارش پر میعاد سے نو ماہ قبل ہی 6؍ ستمبر کو اسمبلی تحلیل کردی گئی تھی۔ پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کریم نگر سے لوک سبھا رکن بی ونود کمار نے شاہ پر جوابی حملہ کیا۔ کمار جو لوک سبھا میں ٹی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر بھی ہیں، نے کہا کہ کبھی نہ کبھی اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، اٹل بہاری واجپائی، این ٹی راما رائو اور این چندرابابونائیڈو جیسے قائدین نے بھی قبل از وقت انتخابات کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے کبھی نہ کبھی قبل از وقت انتخابات کی راہ اختیار کی تھی۔ مودی نے 2002ء میں قبل از وقت انتخابات کا فیصلہ کیوں کیا تھا؟ مودی کو پہلے اس کا جواب دینا ہوگا۔ جیسا کے سی آرنے کیا مودی نے بھی2002ء میں میعاد کی تکمیل سے 8ماہ قبل انتخابات کروائے تھے۔ مودی نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟ کے سی آر کا بھی جواب وہی ہے۔‘‘ کمار نے شاہ کے اس الزام کا بھی جواب دیا کہ کے سی آر نے 2014ء کے انتخابات سے قبل دلت کو چیف منسٹر بنانے کا وعدہ کیا تھا مگر یہ وعدہ وفا نہیں کیا نیز اب ان کا ایجنڈا پنے فرزند (کے ٹی راما رائو) یا دختر (کے کویتا) کو چیف منسٹر بنانے کا ہے۔ کے ٹی آر تحلیل شدہ اسمبلی میں کابینی وزیر جبکہ کویتا نظام آباد سے لوک سبھا رکن ہیں۔ ونود کمار نے کہا کہ ’’امیت شاہ کو معلوم ہوناچاہیے کہ کے سی آر نے 2014 ء کے انتخابات میں ایسا کوئی بیان نہیں دیا تھا۔ انہوں نے تلنگانہ تحریک کے دوران اس طرح کی بات کہی تھی۔ 2014ء کے انتخابات میں تو ہم بالکل واضح تھے کہ کے سی آر ہمارے چیف منسٹر ہوں گے۔2014ء میں ہم نے کبھی یہ نہیں کہا (کہ دلت کو وزیراعلیٰ بنایا جائے گا)‘‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ نہ تو دلت، نہ کے ٹی آر اور نہ ہی کویتا ایجنڈے میں ہوں گی کیوں کہ کے سی آر کو ایک مرتبہ پھر چیف منسٹرمنتخب کیا جائے گا۔‘‘ کمار نے شاہ کے اس الزام کو ’’افسوسناک‘‘ قرار دیا کہ کے سی آر اور کانگریس صدر راہول گاندھی ’’بریک اِن انڈیا‘‘(ہندوستان کو توڑنے) میں مصروف ہیں جبکہ مودی ’’میک ان انڈیا‘‘ میں۔ کمار نے استفسار کیا کہ ’’کیا اقلیتوں کی حمایت کرنا اور ان کے لیے تحفظات کی بات کرنا ہندوستان توڑنا ہوتا ہے؟‘‘ شاہ کے اس الزام پر کہ کے سی آر حکومت اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل میں ناکام رہی، کمار نے کہا کہ بالکل نہیں، ہم نے 2014 ء میں کیے گئے اپنے تمام وعدے پورے کردیے بلکہ اس سے کہیں زیادہ کیا ہے۔ 2014 ء میں جس کا وعدہ نہیں کیا تھا ہم نے وہ بھی نافذ کیا ہے۔ ہم نے اپنے وعدوں سے کہیں زیادہ کام کیا ہے۔‘‘ یہ پوچھے جانے پر کہ کچھ سیاسی حلقوں میں ٹی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ مفاہمت کا تاثر ہے ، کمار نے پُرزور انداز میں اس کی تردید کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ قطعی نہیں۔ ہم مستقبل میں نہ تو بی جے پی اور نہ ہی کانگریس سے کوئی سیاسی اتحاد کریں گے۔‘‘

جواب چھوڑیں