وائی ایس آر کانگریس تلنگانہ میں30سیٹوں پر مقابلہ کرے گی

وائی ایس آر کانگریس تلنگانہ کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں 25تا30سیٹوں پر مقابلہ کرنے پر غور کررہی ہے۔ پارٹی کے ایک سینئر قائد نے یہ بات کہی۔ انہو ںنے یہ بھی کہا کہ پارٹی کا دیگر جماعتوں کے ساتھ ماقبل انتخابات اتحاد کا امکان نہیں ہے۔ پارٹی کی تلنگانہ یونٹ ’’گرائونڈ رپورٹ‘‘ تیار کررہی ہے جو پارٹی صدر وائی ایس جگن موہن ریڈی کو پیش کی جائے گی جو اپنی 3000کلومیٹر کی پدیاترا پر ہیں۔ پارٹی کے ایک قائد نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’’پارٹی کیڈر کا اصرار تھا کہ ہمیں انتخابات میں مقابلہ کرناچاہیے۔ ورنہ اس سے غلط پیغام جائے گا۔ تلنگانہ کے بعض علاقوں میں ہمارا قابل لحاظ ووٹ شیئر ہے۔ ہم انتخابات میں اختیار کی جانے والی حکمت عملی تیار کررہے ہیں۔ 25تا30حلقوں میں ہمارے پاس ووٹرس کی اچھی تعداد ہے۔ ہم ان ہی سیٹوں پر مقابلہ کرسکتے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ تلنگانہ میں پارٹی کے تین ارکان اسمبلی اور واحد لوک سبھا ایم پی اپنی وفاداری تبدیل کرکے حکمراں ٹی آر ایس میں شامل ہوچکے ہیں جس کے بعد ریاستی اسمبلی اور لوک سبھا میں یہاں سے پارٹی کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔2014ء میں تلنگانہ کی تشکیل کے بعد وائی ایس آر سی پی کے کئی قائدین دیگر پارٹیوں میں شامل ہوگئے تھے۔ اس کی اعلیٰ قیادت نے بھی آندھرا پردیش پر توجہ دینے کا آغاز کردیا تھا جہاں وہ اصل اپوزیشن جماعت ہے حالانکہ کئی ارکان مختلف مواقع پر حکمراں تلگودیشم پارٹی میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔ پارٹی قائد نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وائی ایس آر سی کے کھمم، حیدرآباد، رنگا ریڈی اور نلگنڈہ اضلع کے کچھ علاقوں میں اب بھی کئی حامی ہیں۔ آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں کانگریس‘ ریاست کی تقسیم سے قبل (جگن کے والد اور سابق چیف منسٹر) وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی جانب سے نافذ کردہ کچھ مقبول فلاحی اسکیمات کا ہنوز سہرا لیتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تلنگانہ کے عوام اب بھی ان اسکیمات کی ستائش کرتے ہیں۔ تلنگانہ وائی ایس آر کانگریس کے صدر گٹو سری کانت ریڈی نے کہا کہ ’’ہم انتخابات پر جگن موہن ریڈی کی ہدایت کا انتظار کررہے ہیں۔ دسہرہ کے بعد تمام تفصیلات کا انکشاف کیا جائے گا۔‘‘ واضح رہے کہ 2014ء کے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کو8.5لاکھ ووٹس جبکہ اسمبلی انتخابات میں6.5لاکھ ووٹس حاصل ہوئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے 6؍ اکتوبر کو پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی تواریخ کا اعلان کیا جس میں 7؍ دسمبر کو تلنگانہ کا الیکشن بھی شامل ہے۔تلنگانہ اسمبلی‘6؍ ستمبر کو تحلیل کی گئی تھی۔

جواب چھوڑیں