وزیراعظم بدعنوان شخص‘ استعفیٰ دیں: راہول گاندھی

صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج رافیل لڑاکا طیارہ معاملت میں وزیراعظم نریندر مودی کے رول کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ(مودی) ایک بدعنوان شخص ہیں جنہوں نے 36 طیاروں کی خریداری میں انیل امبانی کو 30 ہزار کروڑ روپے ہڑپ لینے میں مدد کی ہے۔ ایک فرانسیسی اخبار میں شائع اس رپورٹ کے ایک دن بعد کہ رافیل طیارے بنانے والی کمپنی ڈسالٹ ایوی ایشن کو اس سودے کے حصول کے لئے امبانی کی کمپنی ریلائنس ڈیفنس کو اپنا آفسیٹ پارٹنر بنانا لازمی تھا۔ صدر کانگریس نے وزیراعظم کے خلاف اپنے الزامات کی تائید میں کوئی شواہد فراہم نہیں کئے۔ حکومت اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ ڈسالٹ کی جانب سے ریلائنس ڈیفنس کے انتخاب میں اس کا کوئی رول نہیں ہے۔ کانگریس صدر نے آج سے وزیر دفاع نرملا سیتارمن کے سہ روزہ دورہ فرانس کو رافیل معاملت کی بڑی پردہ پوشی کی حکومت کی کوششوں کا ایک حصہ قراردیا۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں سوال کیا کہ وزیر دفاع اچانک فرانس کے لئے کیوں روانہ ہوئی ہیں۔ آخر ایسی کونسی ایمرجنسی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم بدعنوان شخص ہیں ۔ ہندوستان کا وزیراعظم ایک بدعنوان شخص ہے۔ کانگریس قائد نے کہا کہ مودی بدعنوانیوں کے خلاف لڑائی کا وعدہ کرتے ہوئے برسراقتدار آئے ۔ وہ(راہول گاندھی ) ملک کے نوجوانوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وزیراعظم کرپشن میں ملوث ہیں۔ یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ فرانسیسی تحقیقی جریدہ ’’میڈیا پارٹ ‘‘ نے ڈسالٹ ایوی ایشن کے ایک داخلی دستاویز کے حوالہ سے چہارشنبہ کو یہ اطلاع دی تھی کہ اس بڑی فضائی کمپنی کو ریلائنس ڈیفنس کے ساتھ مشترکہ وینچر کا معاہدہ کرنے پر مجبور کیا گیا اور اسے 36 رافیل جیٹ لڑاکا طیاروں کے کنٹراکٹ کے حصول کی شرط بنایا گیا۔ ڈسالٹ ایوی ایشن نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ اس نے ہندوستان کے ریلائنس گروپ کے ساتھ شراکت داری کا آزادانہ انتخاب کیا ہے۔ میڈیا پارٹ نے گذشتہ ماہ سابق فرانسیسی صدر فرانکوئی اولاند کے حوالہ سے کہا تھا کہ ڈسالٹ کے ہندوستانی شراکت دار کے انتخاب کے لئے فرانس کو کوئی متبادل پیش نہیں کیا گیا اور حکومت ہند نے فرانسیسی طیارہ ساز کمپنی کی شراکت دار بننے ایک ہندوستانی کمپنی کا نام تجویز کیا تھا۔ اس رپورٹ سے ایک بڑا سیاسی تنازعہ پیدا ہوگیا تھا۔ کانگریس نے حکومت پر اپنے حملوں میں شدت پیدا کردی تھی اور حکومت نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا۔ ڈسالٹ اور ریلائنس ڈیفنس دونوں ہی نے ایک مشترکہ وینچر قائم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ طیاروں کے کل پرزے بنائے جاسکیں اور رافیل معاملت کی آفسیٹ شرط کی تکمیل کی جاسکے۔ آئی اے این ایس کے بموجب راہول گاندھی نے وزیراعظم پر کئی الزامات کے باوجود ان کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو استعفیٰ پیش کردینا چاہئے۔ راہول گاندھی نے چہارشنبہ کی میڈیا پارٹ کی رپورٹ کے اقتباسات پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ اس گروپ کے لئے یہ لازمی شرط رکھی گئی تھی کہ وہ لڑاکا جیٹ طیاروں کا کنٹراکٹ حاصل کرنے ریلائنس کے ساتھ معاہدہ کرے۔

جواب چھوڑیں