کشمیر میں انکاؤنٹر‘ 2 عسکریت پسند ہلاک

جموں وکشمیر کے ضلع کپواڑہ میں آج سیکوریٹی فورسس کے ساتھ بندوقوں کی لڑائی میں 2 کشمیری عسکریت پسند ہلاک ہوگئے جن میں ایک پی ایچ ڈی اسکالر بھی شامل ہے۔ یہ لڑائی موضع شت گنڈ میں ہوئی ۔ پولیس نے عسکریت پسندوں کی شناخت کی توثیق نہیں کی ہے۔ پولیس عہدیداروں نے بتایا کہ حزب المجاہدین کمانڈر منان بشیر وانی جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ایک پی ایچ ڈی اسکالر تھا اور جنوری میں عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوا تھا‘ ایک اور کشمیری عسکریت پسند کے ساتھ محاصرہ میں پھنس گیا اور ہلاک ہوگیا۔ وانی کا تعلق کپواڑہ کے لولاب علاقہ سے تھا۔ اس موضع میں محاصرہ اور تلاشی مہم کے بعد بندوقوں کی لڑائی کی اطلاع عام ہوتے ہی سیکوریٹی فورسس اور احتجاجیوں کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہوگئیں جن میں ایک لڑکا بھی زخمی ہوگیا۔ اس لڑکے کے پیر میں گولی لگی ہے اور اسے سری نگر ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ حکام نے ضلع میں تمام تعلیمی اداروں اور مشتبہ موبائل انٹرنیٹ خدمات بند کردینے کا حکم دیا ہے۔ باندی پورہ‘ بارہمولہ‘ پلوامہ اور سری نگر اضلاع میں ڈگری کالجوں میں جماعتوں کو بھی احتیاطی اقدام کے طورپر معطل کردیا گیا۔ ضلع پلوامہ میں آج ایک علیحدہ واقعہ میں عسکریت پسندوں نے موضع کریم آباد میں اسپیشل پولیس کے ایک عہدیدار بلال احمد پر فائرنگ کرتے ہوئے انہیں زخمی کردیا۔ انہیں ایک ہاسپٹل میں شریک کردیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے بموجب عہدیداروں نے انکاؤنٹر کے مقام سے موصول ہونے والی تفصیلات سے واقف کراتے ہوئے کہا کہ روپوش عسکریت پسندوں نے پولیس اور دیگر سیکوریٹی فوسس پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجہ میں فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جو 11 بجے دن تک جاری رہا۔ پولیس نے پبلک ایڈریس سسٹم کے ذریعہ عسکریت پسندوں سے بار بار خودسپردگی کی اپیل بھی کی۔ 9 بجے دن فائرنگ میں کسی قدر وقفہ ہوا جس کے ساتھ ہی پولیس نے انکاؤنٹر کے مقام پر تلاشی مہم شروع کی۔ 15 منٹ بعد فائرنگ دوبارہ شروع ہوگئی اور مہم روک دینی پڑی۔

جواب چھوڑیں