خشوگی کی گمشدگی، سعودی تحقیقاتی ٹیم ترکی پہنچ گئی

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے “اناطولیہ” کے مطابق گذشتہ ہفتے استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں پراسرار طورپر لاپتہ ہونے والے صحافی جمال خشوگی کی گمشدگی کی تحقیقات کے لیے سعودی عرب کی ٹیم انقرہ پہنچ گئی ہے۔ترک خبر رساں ادارے نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ توقع ہے کہ رواں ہفتے کے دوران ترکی اور سعودی عرب کی تحقیقاتی ٹیمیں ملاقات کریں گی اور خشوگی کی گم شدگی کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔جمعرات کو ترک ایوان صدر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب کی حکومت اور ترکی نے خشوگی کا پتا چلانے کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ترک ایوان صدر کے ترجمان ابراہیم قالن نے ایک بیان میں کہا کہ خشوگی کی گمشدگی کا تمام پہلوئوں سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کی حکومت نے ترکی کو ہرممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ بحرین کے وزیرخارجہ الشیخ خالد بن احمد بن محمد آل خلیفہ نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی کے شہر استنبول میں لاپتا ہونے والے صحافی جمال خشوگی کی حوالے سے حقائق کی تلاش کی آڑ میں سعودی عرب کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ “ٹوئٹر” پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حقائق کی تلاش کا اصل ہدف سعودی عرب ہے۔ خشوگی کی تلاش کی آڑ میں سعودی عرب کے خلاف اشتعال انگیز مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگ اپنے ہیلمٹ پھینک دو ہم دل وجان سیسعودی عرب کے ساتھ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے دشمن قطر کی پالیسی کو آگے بڑھا رہیہیں مگر اس کے ساتھ کوئی مصالحت نہیں ہوسکتی۔ بحرینی وزیر خارجہ نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب دوسری جانب یہ اطلاعات ملی ہیں کہ ترکی میں لاپتا ہونے والے صحافی جمال خشوگی کے معاملے کو اچھالنے کے لے قطر فنڈنگ کررہا ہے۔ قبل ازیں اماراتی وزیر خارجہ الشیخ عبداللہ بن زاید کہا تھا کہ سعودی عرب کو درپیش مشکلات میں ابو ظہبی الریاض کے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ساتھ دینا امارات کے لے باعث شرف ہے۔

جواب چھوڑیں