روہنگیائی مسلمانوں کیخلاف کاروائی کو انسانی حقوق کے زاویہ نگاہ سے نہیں دیکھا جانا چاہئے: راج ناتھ سنگھ

مرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ روہنگیا مسلمانوں اور دیگر غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کاروائی کو انسانی حقوق کے زاویہ نگاہ سے نہیں دیکھا جانا چاہئے کیونکہ ہندوستان نے کبھی بھی بیرونی شہریوں کے ساتھ غلط سلوک نہیں کیا ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے جو نئی دہلی میں قومی انسانی حقوق کمیشن کی سلور جوبلی تقاریب سے خطاب کررہے تھے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور انسانی حقوق کسی بھی مذہب کی بنیاد پر نہیں ہیں۔ انہوں نے تقاریب میں بحیثیت مہمان خصوصی وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں کہا ’’میرا خیال ہے کہ سخت ترین کاروائی کے نام پر غیر انسانی کاروائیوں کیلئے کوئی جگہہ نہیں ہے۔ لیکن میرا یہ بھی ٹھوس خیال ہے کہ قومی اور سماجی مفاد میں کی جانے والی کاروائیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے‘‘ وزیرداخلہ نے کہا کئی مواقع پر بعض افراد نے مجرمین یا دہشت گردوں کے انسانی حقوق پر اظہار تشویش کیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جب کوئی مجرم یا دہشت گرد نہ صرف دوسروں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے اور زندہ رہنے سے متعلق ان کے حق کو چھین لیتا ہے ایسی صورتِحال میں ہم ایسے مجرمین کے انسانی حقوق کے مسئلہ کو کیسے موضوع بحت لاسکتے ہیں‘‘ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کاروائی کو انسانی حقوق کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے بتایا ’’ان کی جانب سے کوئی غیر انسانی طرز عمل اختیار نہیں کیا جارہا ہے۔ میں اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے خوشی محسوس کررہا ہوں کہ سپریم کورٹ نے حالیہ فیصلہ میں (آسام سے) 7 روہنگیائی باشندوں کی واپسی کی حمایت کی ہے‘‘۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ انسانی حقوق کو مناسب تناظر میں دیکھا جانا چاہئے کیونکہ انسانی حقوق کا مطلب یہ ہے کہ ہر کسی کو عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔ انہوں نے بتایا ’’اس خصوص میں ہماری حکومت کی جانب سے کروڑوں افراد کے فائدہ کیلئے کئی اسکیمات شروع کی گئی ہیں اور ان کو غذا، گھروںاور نگہداشت صحت کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جارہا ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے ساتھ ہی ساتھ ہندوستان میں خواتین کے تحفظ کی اہمیت ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ قومی انسانی حقوق کمیشن نے 25 سال پہلے اس کے آغاز کے وقت سے کئی سنگِ میل پار کئے ہیں اور خود اپنے لئے ملک کے ادارہ جاتی خاکہ میں جگہ حاصل کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کا احترام ہندوستان کی روایات میں رہا ہے’’ہمارے ملک میں ہم سب کی فلاح کیلئے دعا کرتے ہیں۔ ہم سب کیلئے بہتری کی خواہش رکھتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ کسی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ ہندوستان دنیا میں پہلا ملک ہے جس کو نہ صرف انسانی حقوق کا احترام کرنے بلکہ جانوروں کے حقوق کا خیال رکھنے کا اعزاز حاصل ہے‘‘۔

جواب چھوڑیں