طالبان کی ریڈ کراس کو افغانستان میں امدادی کام کرنے کی اجازت

طالبان نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ وہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کو افغانستان میں پھر سیپورے طور پر اپنا کام سنبھالنے کی اجازت دیں گے، جس کے لیے وہ تحفظ کی ضمانت دیں گے، جسے چند ہفتے قبل ختم کیا گیا تھا۔ اسلام نواز سرکش گروپ نے اگست میں ضمانتیں واپس لے لی تھیں یہ الزام لگاتے ہوئے کہ امداد فراہم کرنے والا گروپ افغان قیدخانوں میں حراستی صورت حال کی نگرانی کرنے اور طالبان قیدیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی ذمہ داری میں ناکام رہا ہے۔ طالبان ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ قطر میں اْن کے سیاسی گفت و شنید کرنے والوں اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے اہلکاروں کے درمیان بات چیت کے نتیجے میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں کام کرنے والے ریڈ کراس کے عملے کو محفوظ راستہ دیا جائے۔ باغی گروپ کا خلیجی ریاست میں ’’سیاسی دفتر‘‘ قائم ہے۔ ریڈ کراس کے ترجمان نے ’وائس آف امریکہ‘ کی افغان سروس سے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں فریق نے سکیورٹی کے معاملے پر سمجھوتا طے کیا ہے۔ تاہم، اْنھوں نے مزید تفصیل بیان نہیں کی۔افغانستان میں بڑھتی ہوئی مخاصمتوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد نقل مکانی کر چکے ہیں، جنھیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری اعانت درکار ہے۔ اقوام متحدہ نے اسی ہفتے کہا ہے کہ تنازعہ کے نتیجے میں کئی سالوں کی بدترین قحط سالی پھیل چکی ہے اور اس سال تقریباً 470000 افغان شہری گھر بار چھوڑ کر بے دخل ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے انکشاف کیا کہ تنازعہ سے متعلق واقعات کے باعث 8000 سے زائد شہری آبادی ہلاک و زخمی ہوچکی ہے، جب کہ سال کے پہلے نو ماہ کے دوران تقریباً 2800 ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں، جس سے شہری آبادی کو درپیش جانی و مالی نقصان کا اندازہ ہوتا ہے۔ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی ایک آزاد اور غیر جانبدار تنظیم ہے، جو 30 برس سے زائد مدت سے افغانستان میں کام کرتی آ رہی ہے، اْن علاقوں میں بھی جو طالبان کے زیر کنٹرول ہیں۔امدادی گروپ زخمی اور اپاہج افغانوں کی مدد، اسپتالوں کی اعانت، قیدخانوں کا دورہ، زیر حراست افراد کی جانب سے اپنے اہل خانہ سے رابطے میں مدد دینے، مخاصمانہ رویے کی نگرانی کرنے اور انسانی ہمدردی کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کو روکنے کا کام بجا لاتا ہے۔ ’آئی سی آر سی‘ نے گذشتہ سال ملک میں اپنے دو دفاتر بند کیے اور اپنی کارروائیاں روک دی تھیں، جب اْن کے ملازمین پر مہلک حملے ہوئے تھے۔شدت پسندوں نے شمالی صوبۂ جوزجان میں ’آئی سی آر سی‘ کے قافلے پر چھاپہ مار کر چھ امدادی کارکنوں کو ہلاک کر دیا تھا، جب کہ مزار شریف کے شمالی شہر میں ایک دائمی مریض نے ایک ’فزیو تھیراپسٹ‘ کو گولیاں مار دی تھیں۔

جواب چھوڑیں