عاپ حکومت کے سرکیولر کو دہلی ہائی کورٹ نے کالعدم کردیا

 دہلی ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی حکومت کے اس سرکیولر کو کالعدم کردیا ، جس میں دہلی کے رہنے والوں پر غیررہائشیوں کے برعکس ترجیحی طرز ِ عمل جی ٹی وی ہاسپٹل میں اختیار کیا گیا ہے ۔ چیف جسٹس راجندر مینن اور جسٹس وی کے راؤ کی ایک بنچ نے قبل ازیں این جی او سوشل جیورسٹ کی داخل کردہ مفادِ عامہ کی درخواست پر اپنے فیصلہ کو محفوظ کردیا ۔ مفادِ عامہ کی اپیل میں حکومت کے پائلٹ پراجکٹ کو چیلنج کیا گیا ہے ۔ عدالت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ عاپ حکومت کا پراجکٹ جو جی ٹی وی ہاسپٹل سے متعلق ہے ، شہر کے رہنے والوں کو ترجیحی علاج دے رہا ہے ، جس سے دستور کے تحت تمام لوگوں کو مساوی حقوق کی خلاف ورزی تو نہیں ہورہی ہے بنچ نے قبل ازیں کہا تھا کہ اس نے اس بات کا نوٹ لیا ہے کہ عاپ حکومت کی مشکلات جو انفراسٹرکچر اسٹاف اور سہولتوں سے متعلق ہیں ، اس بارے میں یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس بات پر ایسی صورت میں غور کرے گی کہ یہ جائز بنیاد پر ہو کہ دیگر لوگوں کے حقوق کو دستور کی دفعہ 14 اور 21 کے تحت نظر انداز کیا جارہا ہے۔ سابق سماعت کے دوران دہلی حکومت کے سینئر اسٹینڈنگ وکیل راہول مہرا نے عدالت کو بتایا تھا کسی بھی شخص نے یکم اکتوبر کے سرکیولر کے خلاف شکایت درج نہیں کی ، جو ہاسپٹل میں پائلٹ پراجکٹ کے شروع کرنے سے متعلق ہے۔ مہرا نے کہا تھا کہ علاج سے کسی کو بھی انکار نہیں کیا گیا ، جس میں معائنے اور آؤٹ پیشنٹ سہولتیں اسپتال میں دستیاب ہیں ۔ اس میں کسی کو ترجیح نہیں دی جارہی ہے۔

جواب چھوڑیں