فاقہ کشی سے ہزاروں شامی پناہ گزینوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق

اردن کی سرحد پر شامی پناہ گزینوں کے لیے قائم کردہ پناہ گزین کیمپ “الرکبان” میں ہزاروں پناہ گزینوں کو خوراک اور ادیات کی شدید قلت کا سامنا ہے اور ہزاروں شامی پناہ گزین زندگی اور موت کے منہ میں جاسکتے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق “الرکبان” پناہ گزین کیمپ کو خوراک اور دیگر بنیادی اشیاء کی شدید قلت کا سامنا۔ اردنی حکام شامی پناہ گزین کیمپ تک امداد پہنچانے میں ناکام رہے ہیں۔ ادھر شامی فوج نے سرحد کی دوسری طرف الرکبان پناہ گزین کیمپ کا محاصرہ مزید سخت کردیا ہے۔ اردن کی شمال مشرق اور عراق کی سرحدوں پر واقع اس پناہ گزین کیمپ میں 50 ہزار سے زاید افراد پناہ گزین ہیں۔ ان میں زیادہ تر بچے اور اورخواتین ہیں۔ الرکبان کیمپ کے سول دفتر کے عہدیدار ابو عبداللہ نے بتایا کہ ایک ہفتے سے کیمپ میں کوئی امدادی گاڑی داخل نہیں ہوسکی۔ کیمپ میں انتہائی محدود مقدار میںخوراک موجود ہے۔ کچھ لوگ اسمگلنگ کے ذریعے کیمپ تک امدادی اشیائ￿ لانے کی کوشش کررہے ہیں مگر وہ مقدار بھی بہت کم ہے۔ ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ الرکبان کیمپ ایک غبارے کی طرح کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ اگر حالات بہتر نہ کییگئے تو ہزاروں افراد لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ پچھلے تین سال کے دوران شام میں ہزاروں افراد داعش کے خلاف سے بھاگ کر اردن کی سرحد پر جمع ہوگئے تھے۔ انہیں وہاں پر “الرکبان” نامی کیمپ میں رکھا گیا ہے۔ الرکبان کیمپ جنوب مشرقی شام میں امریکہ کے قائم کردہ فوجی اڈے کے قریب ہے۔ امریکہ نے شام اور عراق کی سرحد پر التنف کے مقام پرایک اڈہ بنا رکھا ہے۔

جواب چھوڑیں