پاکستان کی مشکل اقتصاد ی صورت حال کی وجہ چینی قرض ہیں: امریکہ

امریکہ کے محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو جس مشکل اقتصاد ی صورت حال کا سامنا ہے “اس کی وجہ چینی قرض ہے۔” امریکہ کے محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نیوئٹ نے یہ بات جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران پاکستان کی طرف سے اپنی معاشی مشکلات سے نمٹنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے سے باضابطہ طور پر قرض فراہم کرنے کی درخواست دینے سے متعلق پوچھے گئے سوا ل کے جواب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے پاکستان کے لیے کسی بیل آؤٹ کے بارے میں چند ماہ پہلے بات کر چکے ہیں۔ امریکہ کے محکمہ خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کی طرف سے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے لیے دی گئی درخواست کا جائزہ میرٹ پر لے گا۔ انہوں نے کہا کہ” ہم تمام کیسوں بشمول پاکستان کے قرضے کی صورت حال کا تمام پہلوں سے نہایت باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ ” ترجمان نے مزید کہا کہ “پاکستان کو اس وقت جس صورت حال کا سامنا ہے اس کی ایک وجہ چینی قرض ہے اور یہ حقیقت ہے کہ قرض حکومتوں نے شاید یہ سوچ کر حاصل کیا کہ اس قرض سے نکلنا اتنا مشکل نہیں ہو گا تاہم یہ مشکل ہوگیا ہے۔” امریکہ کے محکمہ خارجہ کی ترجمان کے بیان پر تاحال پاکستان کے دفتر خارجہ کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا تاہم چین پہلے ہی یہ وضاحت کر چکا ہے کہ پاکستان میں برھتے ہوئے قرضوں کا مسئلہ پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کی وجہ سے نہیں ہے، اس کے تحت شروع کئے جانے والے تمام منصوبے پاکستان کی مسلسل ترقی کی بنیاد پر دو طرفہ سمجھوتوں کے تحت شروع کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ کے وزیر خارجہ نے اگست میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے کہا تھا کہ وہ پاکستان کو کوئی ایسا قرض نہ دے جس کی رقم پاکستانی حکومت چین سے لیے گئے قرض اتارنے کے لیے استعمال کرسکتی ہو۔ تاہم جب جمعرات کو انڈونیشیا کے جزیر ے بالی میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسد عمر کے قیادت میں پاکستانی وفد سے ملاقات سے پہلے ایک نیوز کانفرنس میں امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے بیان کے تناظر میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ نے کہا کہ آئی ایم ایف اس کے تمام ارکان کو میسر ہے جن کی تعداد 189 ہے اور یہ اپنے تمام ارکان کو خدمات فراہم کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے وضاحت کی کہ آئی ایم ایف کے لیے مکمل طور پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی خاص ملک پر کتنا قرضہ ہے، اس کے لئے قرض کی نوعیت اور شرائط و حجم کو جاننا بھی ضروری ہے تاکہ جب ہم اس ملک کے لیے کسی پروگرام پر غور کریں تو اس سے پہلے یہ جان سکیں کہ یہ ملک کتنے قرضے سہار سکتا ہے۔ اور اس کے ساتھ وہ یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ ملک اور اس کے اداروں پرقرضے کا حجم کتنا ہے۔ ” انہوں نے مزید کہا کہ قرضہ کے بارے میں شفافیت اور اس کی مناسب آگہی کا معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا اطلاق تمام رکن ممالک پر ہوتا ہے۔

جواب چھوڑیں