کشمیرمیں منان وانی کی ہلاکت کے خلاف مکمل ہڑتال

علی گڑھ مسلم یونیوسٹی کے ریسرچ اسکالر سے جنگجو بننے والے منان بشیر وانی کا سیکورٹی فورسز کے ساتھ مسلح تصادم میں مارے جانے کے خلاف جمعہ کو وادی کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی جس کے دوران معمول کی سرگرمیاں ٹھپ رہیں۔ ہڑتال کے دوران احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر سری نگر کے پائین شہر کے بیشتر حصوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ رکھی گئیں۔ پابندیوں کی وجہ سے پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع چھ صدی پرانی جامع مسجد میں ‘نماز جمعہ کا اجتماع’ نہیں ہوسکا۔ وادی کشمیر میں جمعہ کو بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے ۔ مختلف اضلاع میں متعلقہ ضلع مجسٹریٹوں نے تعلیمی ادارے بند رکھنے کے احکامات جاری رکھے تھے ۔ منان وانی کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر کشمیر یونیورسٹی اور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں درس وتدریس کا عمل معطل رہا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی بھر میں ضلع، قصبہ و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ سٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں بھی سڑکوں سے غائب رہیں۔ بیشتر سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج ٹھپ رہا۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ہڑتال کی کال دی تھی۔وادی کے کچھ ایک علاقوں بالخصوص شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں احتجاجیوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ضلع میں مختلف مقامات بشمول لولاب اور لالپورہ میں مقامی لوگوں نے انتظامیہ کی عائد کردہ پابندیاں توڑیں اور منان وانی کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاجی لوگ سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کے مرتکب ہوئے جنہوں نے ردعمل میں آنسو گیس کے گولے داغے ۔ بتادیں کہ 26 سالہ منان بشیر وانی سمیت حزب المجاہدین کے دو جنگجوؤں کو جمعرات کو ضلع کپواڑہ کے کلام آباد شاٹھ گنڈ (ہندواڑہ ) میں قریب دس گھنٹوں تک جاری رہنے والے مسلح تصادم کے دوران ہلاک کیا گیا۔ کپواڑہ کے لولاب علاقہ کے رہنے والے منان وانی نے رواں برس 5 جنوری کو حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ منان وانی نے اُس وقت جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی، جب وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ ایپلائیڈ جیولوجی سے پی ایچ ڈی کررہا تھا۔ اگرچہ منان وانی نے گذشتہ 9 مہینوں کے دوران کسی بھی آپریشن میں حصہ نہیں لیا، تاہم انہوں نے اس دوران کئی تحریریں لکھیں جن کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پڑھا اور شیئر کیا گیا۔ منان وانی کے ساتھ مارے گئے دوسرے جنگجو کی شناخت تلواری لنگیٹ کے رہنے والے عاشق حسین زرگر ولد غلام محی الدین زرگر کے طور پر کی گئی تھی۔ عاشق حسین نے چند ماہ قبل ہی جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وادی میں ہڑتال کے پیش نظر ریل خدمات معطل رکھی گئیں۔ ریلوے کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ‘وادی میں ریل خدمات پولیس انتظامیہ کی ہدایت پر معطل رکھی گئی ہیں۔ گرین سگنل ملنے پر خدمات کو بحال کیا جائے گا’۔ شمالی کشمیر کے کچھ حصوں میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات بدستور منقطع رکھی گئی ہیں۔ مزاحمتی قیادت نے ہڑتال کی کال دیتے ہوئے کہا تھا کہ منان وانی نہ صرف ایک ممتاز اسکالر بلکہ ایک ادیب اور نامور قلمکار بھی تھے اور ان کی موت سے رواں تحریک آزادی ایک عظیم اثاثے سے محروم ہو گئی ہے ۔ کشمیر انتظامیہ نے ریاست میں بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کے پیش نظر مزاحمتی قائدین اور دیگر علیحدگی پسند رہنماؤں کو تھانہ یا خانہ نظر بند رکھا ہے ۔ بزرگ علیحدگی پسند راہنما اور حریت کانفرنس (گ) چیئرمین مسٹر گیلانی کو گذشتہ قریب آٹھ برس سے مسلسل اپنے گھر میں نظربند رکھا گیا ہے ۔ حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کو 7 اکتوبر کی صبح اپنی رہائش گاہ پر نظربند کیا گیا تھا۔ یاسین ملک کو 2 اکتوبر سے پولیس تھانہ کوٹھی باغ میں بند رکھا گیا ہے ۔ اس دوران کشمیر انتظامیہ نے جمعہ کے روز سری نگر کے پائین شہر میں سخت ترین پابندیاں نافذ کرکے تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ کشمیر انتظامیہ نے احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں جمعہ کی صبح ہی سخت ترین پابندیاں نافذ کیں جن کی وجہ سے جامع مسجد میں نماز کی ادائیگی ناممکن بن گئی۔ نوہٹہ کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ تاریخی جامع مسجد کے دروازوں کو جمعہ کی صبح ہی مقفل کردیا گیا تھا۔ پابندیوں کے نفاذ کے طور پر نالہ مار روڑ کو ایک بار پھر خانیار سے چھتہ بل تک مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا۔ سیکورٹی فورسز نے نواب بازار، زالڈگر، راجوری کدل اور نوہٹہ میں بھی تمام اہم سڑکوں کو سیل کردیا تھا۔ ادھر سری نگر کے سیول لائنز میں تجارتی اور دیگر سرگرمیاں کلی طور پر متاثر رہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت متاثر رہی۔ تاریخی لال چوک، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، گونی کھن، ریذیڈنسی روڑ، مولانا آزاد روڑ، بتہ مالو، اقبال پارک، ڈل گیٹ، ریگل چوک اور بڈشاہ چوک میں تمام دکانیں بند رہیں۔ ایسی ہی صورتحال بالائی شہر کے علاقوں میں بھی نظر آئی۔ بارہمولہ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبہ جات اور تحصیل ہیدکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا ۔ بعض رپورٹوں کے مطابق ضلع کپواڑہ میں منان وانی کے آبائی قصبہ لولاب اور قصبہ کپواڑہ میں جمعہ کو سخت پابندیاں نافذ رکھی گئیں۔ جنوبی کشمیر کے قصبہ جات اور تحصیل ہیدکوارٹروں میں تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ رہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی۔ ہڑتال کی کال پر وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع میں بھی دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آواجاہی معطل رہی۔

جواب چھوڑیں