جمال خشوگی قتل کیس:شاہ سلمان سے وضاحت طلب کرنے ٹرمپ کااعلان

صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے بتایا کہ وہ سعودی عرب کے شاہ سلمان سے فون کے ذریعہ لاپتہ صحافی جمال خشوگی کے بارے میں دریافت کریں گے ۔اندیشہ ہے کہ جمال خشوگی کو ترکی میں سعودی قونصل خانہ میں ہلاک کردیاگیا ۔ مہم کے دوران ٹرمپ کا ریمارک اس وقت سامنے آیاہے جبکہ ان پر ارکان کانگریس اور میڈیا کااس سلسلہ میں دباؤ جاری رہاہے ۔ ترکی سے آنے والی رپورٹوں میں بتایاگیا کہ سعودی عہدیداروں نے استنبول میں اپنے قونصل خانہ میں وحشیانہ طور پر خشوگی کو ہلاک کردیا ۔ 59 سالہ خشوگی واشنگٹن پوسٹ کے نامہ نگار تھے ‘ وہ اپنی شادی کے لیے چند کاغذات حاصل کرنے وہاں پہنچے تھے ۔ ٹرمپ نے بتایا کہ وہ کسی بھی وقت شاہ سلمان کو کال کریں گے ۔ٹرمپ نے بتایا کہ ہم ترکی میں ہوئی اس خوفناک صورتحال کے دوران جو کچھ ہواہے اس کاپتہ چلائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ کسی کو بھی اس وقت تک مکمل جانکاری نہیں ہے ۔کوئی بھی شخص اسے پوری طرح سمجھ نہیں پایاہے ۔ عوام مختلف نظریات قائم کرنے لگے ہیں جبکہ ہم آپ کو اس واقف کروائیں گے لیکن یقینی طور پر یہ خطرناک بات ہے ۔ ٹرمپ نے شاہ سلمان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی ہونے والی بات چیت کااظہار نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم کو نہیں بتاسکتے ہیں لیکن یہ ضرور کہیں گے کہ وہ بہت ہی تیزی اور شدت کے ساتھ جائزہ لے رہے ہیں بلکہ دیگر بہت سے لوگ بھی اس کاپتہ چلانے کے لیے کوشاں ہیں کیونکہ یہ امکانی طور پر ایک حقیقی خطرناک صورتحال ہے لہذا ہم جو کچھ ہوگا دیکھیں گے ۔امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اْنہیں سعودی صحافی، جمال خشوگی کے ترکی میں لاپتہ ہونے پر بہت تشویش ہے۔ لیکن، وہ اْس کی وجہ سے سعودی عرب کو 110 ارب ڈالر کے اسلح کا پیکج معطل نہیں کرنا چاہتے۔واضح رہے کہ امریکہ میں مقیم والے خشوگی کو آخری بار سعودی سفارتخانے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ خشوگی اپنی تصنیف اور تقاریر میں سعودی حکومت کے ناقد رہے تھے۔ترک ٹیلی ویژن، ’ٹی آر ٹی‘ میں اردو سروس کے سربراہ، ڈاکٹر فرقان حمید کا کہنا ہے کہ خشوگی معاملے پر سعودی عرب کے ملوث ہونے کا اشارہ اس وقت ملا جب 15 سعودی سفارت کاروں اور سعودی خْفیہ اداروں کے اہلکاروں کو خشوگی کے بعد سعودی سفارت خانے میں داخل ہوتے دیکھا گیا۔اْنھوں نے کہا کہ اس کے بعد یہ پتا نہیں چلا کہ سعودی صحافی کے ساتھ کیا ہوا، آیا اْنہیں قتل کیا گیا یا اغوا کر کے کہیں اور لے جایا گیا۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ وہ گمشدہ صحافی کا پتا لگائیں۔جدہ میں مقیم صحافی شاہد نعیم کہتے ہیں کہ سعودی عرب نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ اْن کا خشوگی کی گمشدگی یا قتل میں کوئی ہاتھ ہے۔ اْن کا کہنا ہے کہ ’’مغربی ذرائع ابلاغ نے سعودی عرب کو بدنام کرنے کیلئے یہ مہم چلا رکھی ہے‘‘۔اطلاعات کے مطابق، امریکی خفیہ معلومات سے پتا چلتا ہے کہ سعودی عرب نے خشوگی کو امریکہ سے سعودی عرب واپس بلانے کی کوشش کی تھی، مگر وہ اس میں ناکام رہا تھا۔اس سلسلہ میں جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا آیا اْنہیں خشوگی کو اطلاع دینی چاہیے تھی کہ اْن کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے، جس پر اْنہوں نے کہا کہ صحافی ترکی میں غائب ہوئے نہ کہ امریکہ میں۔ لیکن، اْن کا کہنا تھا کہ امریکہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرانا چاہتا ہے۔امریکا میں پروفیسر محمد احمد صدیقی کہتے ہیں کہ بین الاقوامی حقوق اور آزادی صحافت کے اعتبار سے معاملہ اہم ہے۔

جواب چھوڑیں