خشوگی کی گمشدگی کے حقائق سامنے لانے اقوام متحدہ کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے سربراہ نے گمشدہ سعودی صحافی جمال خشوگی کے حوالے سے حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔سکریٹری جنرل انٹونیوگٹریس نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ انھیں خدشہ ہے کہ یہ گمشدگیاں مزید ہوں گی اور یہ ایک نیا معمول رائج ہو جائے گا۔جمال خشوگی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نویس ہیں اور وہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بڑے ناقد رہے ہیں وہ 2 اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں جانے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ادھر سعودی عرب نے ترکی کے اس الزام کو جھوٹ قرار دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ترک حکام کے پاس ایسے آڈیو اور ویڈیو شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ گمشدہ سعودی صحافی جمال خشوگی کو استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا ہے۔تفتیش کاروں کے مطابق ترک حکام کے پاس ’دستاویزی شواہد‘ موجود ہیں۔تاہم سعودی عرب نے ایک بار پھر خاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات رد کر دیے ہیں۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزیرِ داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود نے کہا کہ خاشقجی کے قتل کا حکم دینے کے الزامات بیبنیاد ہیں اور جھوٹے ہیں۔ جمعہ کو ایک سعودی وفد ترکی پہنچا ہے جو اس کیس پر ترک حکام کے ساتھ مل کر تحقیقات کرے گا۔اس سے ایک روز قبل ترک صدر کے ترجمان ابراہیم کالین نے کہا تھا کہ خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بنایا گیا ہے۔سعودی عرب نے ترک عرب نے مشترکہ تحقیقاتی گروپ کے قیام کا خیرمقدم کیا ہے۔ سرکاری خبررساں ادارے سعودی پریس ایجنسی نے کل ایک ٹویٹ میں کہا: ‘حکام ترکی کی جانب سے خاشقجی کی گمشدگی کی تحقیقات کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ ماہرین کی ٹیم کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہیں۔’

جواب چھوڑیں