رافیل ٹھیکہ‘ آپ کا حق: راہول گاندھی

صدر اے آئی سی سی راہول گاندھی نے آج کہا کہ ہم یہاں آپ کی ممکنہ مدد کے لئے ہیں لیکن اپوزیشن میں ہیں تاہم برسراقتدار آنے پر ہم پوری قوت سے آپ کی مدد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہاں ملک کے باوقار ڈیفنس پی ایس یو کو مزید سمجھنے آیا ہوں۔ اسے مزید کیسے مستحکم کیا جائے یہ سمجھنے آیا ہوں۔ راہول گاندھی ‘ بنگلورو میں ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) ملازمین سے بات چیت کررہے تھے۔ ملاقات کا اہتمام ایچ اے ایل ویلفیر فورم نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد اہم ادارے اس لئے قائم ہوئے تھے کہ ملک پھلے پھولے۔ آئی آئی ٹی تعلیم کے لئے اور ایچ اے ایل‘ دفاعی طیارے بنانے قائم ہوئے۔ قیام کے بعد سے ایچ اے ایل کی کامیابیاں بہترین ہیں۔ کانگریس صدر نے ایچ اے ایل ملازمین سے کہا کہ آپ نے عمدہ کام کیا ہے۔ سابق صدر امریکہ بارک اوباما نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ امریکہ کا بڑا دشمن‘ چین نہیں بلکہ ہندوستان ہے کیونکہ اس نے دفاع اور معاشی شعبہ میں زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ ہم یہاں آپ کے مسائل سمجھنے آئے ہیں۔ ہم اپوزیشن میں ہونے کی وجہ سے ممکنہ حد تک انہیں حل کرنے کی کوشش کریں گے لیکن برسراقتدار آنے کے بعد ہم زیادہ سے زیادہ مدد کریں گے۔ میں اس کا تیقن دیتا ہوں ۔ آج میں آپ کے مسائل سننے آیا ہوں۔ ملک کے باوقار ادارہ کی کارکردگی کے تعلق سے آپ کی رائے جاننے آیا ہوں۔ بات چیت کے وقت ایچ اے ایل کے کئی موظف اور برسرخدمت ملازمین موجود تھے۔ سیاسی قائدین بشمول کانگریس قائد (لوک سبھا) ملیکارجن کھڑگے ‘ صدر کرناٹک پردیش کانگریس دنیش گنڈو راؤ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ راہول گاندھی نے بنگلورو کے کبن پارک میں ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے ملازمین سے اس کے کارپوریٹ دفتر کے باہر ملاقات کی۔ ان کی یہ ملاقات رافیل لڑاکا طیارہ معاملت پر جاری تنازعہ کے مدنظر ہوئی ہے۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کی قیمت پر انیل امبانی کی ریلائنس ڈیفنس کو فرنچ ایوی ایشن کمپنی ڈسو سے آفسیٹ ٹھیکہ دلوایا۔ کانگریس صدر نے ایچ اے ایل ملازمین سے جن میں کئی موظف ملازمین شامل تھے‘ کہا کہ ان کے لئے ایچ اے ایل کمپنی سے کہیں زیادہ ہے۔ ایچ اے ایل نے ملک کی زبردست خدمت کی ہے۔ رافیل ٹھیکہ آپ کا حق ہے۔ آپ کی کمپنی اس ملک کی واحد کمپنی ہے جس کے پاس طیارہ بنانے کا تجربہ ہے۔ سابق امریکی صدر بارک اوباما جب یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان اور چین ‘ امریکہ سے مسابقت کرسکتے ہیں تو ایچ اے ایل اس کی ایک وجہ ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ رافیل معاملت چھِن جانے کے بعد آپ کا کیا احساس ہے۔ غور طلب ہے کہ راہول گاندھی کے دورہ بنگلورو سے قبل ایچ اے ایل نے کہا جاتا ہے کہ اپنے ملازمین کو ایک انٹرنل سرکولر جاری کیا کہ وہ کسی بھی سیاسی قائد سے بات چیت نہ کریں ورنہ ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ پریس ریلیز میں ایچ اے ایل نے کہا تھا کہ تمام ملازمین یونینوں کو چاہئے کہ وہ تحمل برتیں اور یہ یقینی بنائیں کہ وہ کسی تنازعہ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ راہول گاندھی کی مختصر تقریر کے بعد ایچ اے ایل کے کئی سابق ملازمین نے ان سے بات چیت کی اور جاریہ مسئلہ پر اپنی رائے انہیں بتائی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک سینئر اسٹافر نے کہا کہ مینجمنٹ نے ملازمین کو بیان جاری کیا ہے کہ وہ اس تقریب میں شرکت نہ کریں۔ انتظامیہ نے خوف کا ماحول پیدا کیا۔ ایک اور سینئر ملازم نے ایچ اے ایل کی صلاحیت کی تعریف کی اور کہا کہ یہ لائق کمپنی ہے۔

جواب چھوڑیں