ریاست میں خاتون ووٹرس کی تعداد میں اضافہ :رجت کمار

ریاست میں فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظرثانی کے بعد ووٹرلسٹ میں خاتون رائے دہندوںکی تعدادمیں اضافہ ہواہے ۔ چیف الیکٹورل آفیسر رجت کمار نے ہفتہ کے روز کہاکہ فہرست رائے دہندگان کے قطعی مسودہ کے مطابق ریاست کے رائے دہندوں کی جملہ تعداد2.73 کروڑ ہوجائے گی۔ 18تا19سال عمرکے نوجوانوں کے نام بطورنئے رائے دہندوںکی حیثیت سے ووٹرلسٹ میںدرج کئے گئے ہیں۔ان نوجوانوں کی تعداد5.75 لاکھ بتائی گئی ہے ۔ رجت کمار نے کہاکہ ناموں کے اندراج سے متعلق عوام میں شعوربیدار کرنے کے لئے باضابطہ اور منصوبہ بند انداز میں مہم چلائی گئی ۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے رجت کمار نے ضلع واری اساس پر ووٹرلسٹ میں آبادی کے تناسب سے مردوخاتوں رائے دہندوںکی تفصیلات اور اعداد وشماربتاتے ہوئے کہاکہ سافٹ ویر ٹکنیکل مسائل کے سبب ووٹرلسٹ پرنظرثانی کے عمل کو قطعیت دینے میں تاخیرہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ناموں کا اندراج مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے ۔ پرچہ نامزدگیوں کے ادخال کے ایک دن قبل تک نام درج کرائے جاسکتے ہیں۔ تاہم آخری تاریخ سے 10دن قبل ناموں کے اندراج اور حذف کرنے کا عمل مکمل کرلیا جاتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ 16اسمبلی حلقوں ملک پیٹ ‘خیریت آباد‘ یاقوت پورہ ‘جوبلی ہلز ‘ صنعت نگر اورعنبرپیٹ جیسے حلقوں میں ووٹرلسٹ کو تلگواورانگریزی کے ساتھ اردو میں بھی طبع کرایاجائے گا جبکہ بوتھ ‘مدہول اور جکل حلقوں میں ووٹرلسٹ ‘مراہٹی میں بھی شائع کی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ جاری اسکیمات جیسے رعیتوبندھواسکیم پر عمل آوری کوروکانہیں جائے گا۔ ضلع جگتیال کے کنڈاگٹو کے بس حادثہ کے مہلوکین کے ورثا میں معاوضہ کی رقم کے چیکس تقسیم کے الزامات کاجائزہ لیاجارہا ہے ۔ اس سلسلہ میں مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے شکایتیں وصول ہوئی ہیں۔ اس بارے میں تفصیلات الیکشن کمیشن کو روانہ کی جاچکی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ مختلف عوامل ‘اسباب کی بنیادپر پولنگ بوتھس کو حساس اورانتہائی حساس قرار دیاجائے گا۔ متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی جاچکی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں بیلٹ شاپس کوبند کرادیں تاکہ شراب مافیا‘رائے دہندوں پر اثرانداز نہ ہونے پائے ۔ محکمہ اکسائز کے عہدیداروں کو پابند کیا گیاہے کہ نشیلی چیزوں جیسے ہیروئین ‘کوکین اور گانجہ کی غیر مجاز منتقلی کو روکنے کیلئے سخت سے سخت اقدامات کریں ۔ ریاست میں شراب کی فروخت معمول کے مطابق جاری رہے گی۔ تاہم سرحدی علاقوںپر خصوصی نظررکھنے کی ہدایت دی جاچکی ہے ۔

جواب چھوڑیں