عدالتی فیصلہ کے بعد امریکی پادری رہا‘ اپنے وطن روانہ

ترکی کی ایک عدالت نے امریکی پادری کو دہشت گردی کے الزام پر سزا سنائی ہے، لیکن فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وہ دو برس زیر حراست رہ چکے ہیں، مزید وقت قید نہیں رہیں گے اور ملک سے باہر جا سکتے ہیں۔اینڈریو برنسن کی گرفتاری ترکی اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعطل کا سبب بنی رہی ہے۔ کل عدالتی فیصلے سے پادری کی امریکہ واپسی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔اْن کی رہائی کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بہت جلد برنسن امریکہ لوٹ آئیں گے۔ایک اور خبر کے مطابق، تنازعہ کا باعث بننے والے مسیحی پادری کل ترکی میں اپنے گھر پہنچ چکے ہیں، جس سے پہلے عدالت نے فیصلہ سنایا تھا کہ وہ آزاد ہیں۔ یہ اقدام دونوں اتحادیوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کا اہم موجب بن سکتا ہے۔رائٹر کے ایک کیمرامین کا کہنا ہے کہ اینڈریو برنسن ترکی کے ساحلی صوبے ازمیر میں اپنے گھر پہنچے ہیں، جب کہ اس سے قبل عدالت کی عمارت سے کاروں کے ایک قافلے کی صورت میں روانہ ہوئے تھے۔عدالت نے دہشت گردی کے الزامات پر انھیں تین سال، ڈیڑھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ لیکن، عدالت نے کہا تھا کہ اْنھیں مزید وقت قید نہیں کاٹنی پڑے گی۔پادری 20 برس سے زائد مدت سے ترکی میں مقیم رہے ہیں، جب کہ اْنھیں گذشتہ دو برس قبل جیل میں ڈالا گیا، اور جولائی سے وہ گھر پر نظر بند تھے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جنھوں نے برنسن کی رہائی کے حصول کی کوشش میں ترکی پر تعزیرات عائد کی تھیں، ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ ’’پاسٹر برنسن ابھی ابھی رہا ہوئے ہیں۔ وہ بہت جلد وطن واپس آئیں گے‘‘۔ترکی میں دو برس تک قید رہنے کے بعد امریکی پادری اینڈریو برَنسن جمعہ بارہ اکتوبر کو ایک عدالتی فیصلے کے بعد رہا کر دیے گئے تھے۔ وہ آج ہفتے کو اپنے وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔ عدالت نے امریکی پادری کو دہشت گردی سے جڑے الزامات کے تحت تین سال ایک ماہ اور پندرہ دن کی سزا سنائی تھی لیکن انہیں اسیری کے ایام کے دوران اچھے برتاؤ کی بنیاد پر رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد پادری برنسن ایک امریکی فوجی جہاز پر روانہ ہوئے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق پادری برَنسن کا طبی معائنہ جرمنی میں مکمل کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں