مایا وتی کی بی جے پی اور کانگریس پر تنقید

بی ایس پی سربراہ مایا وتی نے اجیت جوگی زیرقیادت جنتا کانگریس چھتیس گڑھ (جے سی سی ) اور بی ایس پی مشترکہ کی جانب سے آج انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بی جے پی اور مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے عام آدمی اور قبائلیوں کے لیے غلبہ والے چھتیس گڑھ ریاست کو نظر انداز کردیا ہے۔ بلاسپور کھیل پریسر میں ایک بڑی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے مایا وتی نے تاہم کانگریس کو بھی نہیں بخشا اور کہا کہ وہ بی ایس پی کے خلاف غلط معلومات پر مبنی مہم میں ملوث ہے اور ان کی پارٹی نے جے سی سی کے ساتھ مرکز اور سی بی آئی کیسس کے دباؤ کے تحت حلیف بنی ہیں ۔ کسی بھی طرح بی جے پی سرکار کو مرکز میں آنے نہیں دینا ہے۔ یہ بات انہوں نے جے سی سی بانی صدر و چھتیس گڑھ کے پہلے چیف منسٹر اجیت جوگی کی موجودگی میں کہی ۔ ریالی میں اپنی تقریر کے دوران اجیت جوگی نے مایا وتی کو آئندہ وزیر اعظم کی حیثیت سے دیکھنے کی پرزور تائید کی ۔ میں ، تمام ارکانِ پارلیمنٹ جن کا چھتیس گڑھ سے تعلق ہے ، یہ یقین دلاتا ہوں کہ وہ آپ کی قیادت میں مرکزی حکومت تشکیل دیںگے۔ یہ بات چھتیس گڑھ کے پہلے چیف منسٹر نے کہی۔ مایا وتی نے کہا کہ اس ریاست کی عوام اور سارا ہندوستان مرکز کی حکومت سے بیزار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کانگریس کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ عدم احترام کے مظاہرہ میں مصروف ہے اور یقین دلایا کہ جے سی سی ۔ بی ایس پی اتحاد احترام حاصل کرے گا۔ سابق اترپردیش کے چیف منسٹر نے کہا کہ بی ایس پی اور جے سی سی کارکنوں کی جانب سے تمام کوششیں کی جانی چاہئیں کہ اتحاد کو قطعی اکثریت حاصل ہو ۔ 15 طویل برسوں کے دوران ایک پارٹی کی حکمرانی سے چھتیس گڑھ کے عوام کو کوئی مدد حاصل نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں بہتر صلاحیت ہے ، لیکن ان کا حق بحیثیت ِ قبائلی اور دلت نہیں مل رہا ہے اور ان کو اسکیمات میں نظر انداز کیا جارہا ہے ، جو بی جے پی کے تحت وضع کی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہی ایک وجہ ہے کہ کیوں ریاستی موقف سے ریاست کے عوام کی بڑی تعداد کو مدد نہیں سکی تاکہ وہ اپنا مقدر بدل سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی نے جو وعدے کیے تھے ان پر عمل نہیں کیا اور ملک کے کسی بھی غریب کو پندرہ لاکھ روپئے نہیں مل سکے ، جیسا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014ء انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا ۔ انہوں نے گاؤ رکھشک مسئلہ کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ اقلیتوں اور دلتوں کے کئی غریب خاندانوں کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سیٹوں کی تقسیم کے حصہ کے طور پر بی ایس پی 35 نشستوں پر مقابلہ کرے گی اور جے سی سی ماباقی 55 سیٹوں کے لیے اپنے مقدر کے بارے میں کوشش کرے گی۔ جے سی سی ذرائع نے بتایا کہ پارٹی دیگر چھوٹی پارٹیوں جیسے سی پی آئی اور گونڈا وانہ گناتنترک پارٹیوں سے بھی تائید حاصل کرنے کی کوشش کرے گی ، تاکہ غیربی جے پی اور غیرکانگریسی ووٹ حاصل کیے جاسکیں۔

جواب چھوڑیں