کیلاش گہلوت نے 120 کروڑ کی ٹیکس چوری کی۔چپراسیوں کو تک ایکویٹی شیئر دیئے گئے

کیلاش گہلوت کی جائیدادوں کی تلاشی لینے والے محکمہ انکم ٹیکس نے ہفتہ کے دن کہا کہ اسے ایسے کاغذات ہاتھ لگے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ دہلی کے اس کابینی وزیر نے 120 کروڑ کی ٹیکس چوری کی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس کے ایک سینئر عہدیدار نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر آئی اے این ایس کو بتایا کہ ہمیں 120 کروڑ کی ٹیکس چوری کا ثبوت ملا ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ یہ محتاط اندازہ ہے ۔ عہدیدار نے کہا کہ جو کاغذات ملے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ آفس بوائز ‘ چپراسیوں اور دیگر ملازمین کو قرض دیئے گئے اور کئی فرضی کمپنیوں میں 70کروڑ کے ایکویٹی شیئر دیئے گئے۔ ہم نے ملازمین کے نام پر کئی بے نامی جائیدادوں کا بھی پتہ چلایا ہے۔ ایک بڑا پلاٹ ڈرائیور کے نام پر ہے۔ عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ دُبئی کی ایک جائیداد میں گہلوت کی سرمایہ کاری کا ثبوت بھی ملا ہے۔ ایک فرضی کمپنی کے ڈائرکٹر سے قرض اور 20کروڑ کی انٹریز کا پتہ چلا ہے۔ جنرل پاور آف اٹارنی کے ذریعہ جائیدادوں میں بڑے پیمانہ پر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس کی ترجمان سے جب ربط پیدا کیا گیا تو ترجمان نے تبصرہ سے انکار کردیا۔ چہارشنبہ اور جمعرات کو انکم ٹیکس عہدیداروں نے کیلاش گہلوت اور ان کے ارکان خاندان کے 16 بنگلوں اور کمرشیل جائیدادوں پر دھاوا کیا تھا۔ یہ جائیدادیں نئی دہلی کے وسنت کنج‘ پشچم بہار اور نجف گڑھ کے علاوہ گروگرام میں واقع ہیں۔ گروگرام ‘ گڑگاؤں کا نیا نام ہے۔ کیلاش گہلوت اروند کجریوال کی حکومت میں ٹرانسپورٹ ‘ قانون‘ مال گزاری ‘ انفارمیشن ٹکنالوجی اور انتظامی اصلاحات کے کابینی وزیر ہیں۔ محکمہ انکم ٹیکس کی ترجمان سبھی اہلووالیہ نے چہارشنبہ کے دن آئی اے این ایس کو بتایا تھا کہ گہلوت اور ان کے ارکان خاندان پر دھاوے ان کی 2 کمپنیوں برسک انفرااسٹرکچر اینڈ ڈیولپر پرائیوٹ لمیٹڈ اور کارپوریٹ انٹرنیشنل فینانشیل سرویسس پرائیوٹ لمیٹڈ کے تعلق سے کئے گئے۔ ان دھاوؤں کے بعد چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ معافی مانگیں۔ کجریوال نے چہارشنبہ کے دن ہندی میں ٹویٹ کیا تھا کہ نیرؤ مودی اور وجئے مالیا سے دوستی اور ہم پر دھاوے ؟ ۔ مودی جی آپ نے مجھ پر‘ ستیندر جین پر اور منیش سسودیہ پر دھاوے کرائے۔ کیا ہوا ؟ کیا آپ کو کچھ ملا؟ دہلی کی منتخبہ حکومت پر ایک اور دھاوے سے قبل دہلی سے معافی مانگئے۔

جواب چھوڑیں