گرگائوں میں ایڈیشنل جج کی اہلیہ اورفرزند پر سیکورٹی گارڈ کی فائرنگ

ایڈیشنل ضلع جج کرشن کانت کی اہلیہ اور اُن کے فرزند کو آج مذکورہ جج ہی کے پرسنل سیکورٹی گارڈ نے مبینہ طورپر گولی مارکر شدید زخمی کردیا۔ گڑگائوں کے پولیس کمشنر کے کے رائو نے بتایاکہ دونوں شدید زخمیوں کو اسپتال میں شریک کرادیاگیا‘ ڈاکٹر اُن کی حالت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ فائرنگ کا مذکورہ واقعہ آج لگ بھگ 3:30 بجے سہ پہر گڑگائوں کے سیکٹر 49میں ایک پرہجوم مارکٹ میں پیش آیا ۔ زخمیوں کی حالت ’’نازک ‘‘بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے بتایاکہ ایڈیشنل سیشن جج کرشن کانت کی اہلیہ ریتو (38 سالہ) اور فرزند دھرو(18سالہ)‘ آرکیڈیا مارکٹ میں شاپنگ کیلئے گئے تھے۔ اُن کے ساتھ جج کا گارڈ مہیپال بھی تھا ۔ ڈی سی پی ایسٹ سلوچنا گجراج نے بتایاکہ ’’ بعض مقامی افراد نے پولیس کو فائرنگ کے بارے میں بتایا جب پولیس ٹیم اُس مقام پر پہنچی تو ریتو اور دھرو کو ‘ خون میں لت پت پا یاگیا۔ ریتو کے سینے میں گولی لگی جبکہ دھرو کے سرپر گولی لگی۔ ان دونوں کو میدانتا اسپتال لے جایاگیا جہاں اُن کا علاج جاری ہے اور حالت نازک ہے‘‘۔ گجراج نے بتایاکہ مہیپال‘ فوری طورپر وہاں نہیں پایاگیا۔ ’’ اُس کو بعد میں فرید آباد سے گرفتار کیا گیا‘‘ ۔ مہیپال سے پوچھ گچھ جاری ہے تاکہ فائرنگ کی وجہ معلوم کی جائے۔ موصولہ اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک راہگیر نے مشتبہ حملہ آور کا ویڈیولیا۔ یہ حملہ آور‘ یونیفارم میں ملبوس تھا اور جج کے فرزند کا اغواء کرکے اُس کو ایک کار میں بٹھانے کی کوشش کررہا تھا لیکن ایسا نہ کر سکنے پر وہ وہاں سے فرار ہوگیا۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس عہدیداروں نے بتایاکہ مہیپال‘ ہریانہ پولیس کا ایک ہیڈ کانسٹبل تھا اورگذشتہ دوسال سے وہ مذکورہ جج کے شخصی سیکورٹی گارڈ کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہا تھا۔ وہ اپنے گھر جانے کیلئے گذشتہ چند روز سے رخصت کا مطالبہ کررہا تھا لیکن اُس کو رخصت دینے سے انکار کردیا گیا۔ممکن ہے کہ اِس سبب ذہنی تنائو کا شکار ہوا ہو۔ پوچھ گچھ کرنے والے ایک عہدیدار نے بتایاکہ ’’ مذکورہ جج ‘ اُس کو ( مذکورہ سیکورٹی گارڈ کو) اکثرڈانٹ ڈپٹ کیا کرتے تھے۔ جج کی اہلیہ نے بھی آج ‘ کار میں اُس کو ڈانٹا ‘اُس وقت یہ لوگ مارکٹ کو جارہے تھے۔ جج کیخلاف سیکورٹی کو بغض پیدا ہوگیا تھا‘‘ ۔ ویڈیو فوٹیج میں بتایاگیا ہے کہ ایک عینی شاہد نے مذکورہ واقعہ ریکارڈ کیا۔ مہیپال کو ہاتھ میں بندوق لئے دکھایاگیا ہے۔ وہ( مہیپال) دھرو کو کار میں ڈھکیلنے کی کوشش کرتا بھی دیکھا گیا۔ دھرو‘ سڑک پر ‘ بے حس وحرکت پڑا ہوا تھا۔

جواب چھوڑیں