حماس کے خلاف سخت کاروائی کرنے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کی دھمکی

اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے اسلام پسندوں کے زیر کنٹرول غزہ پٹی سے متصل سرحد پر تازہ تشدد کے بعد حماس پر زبردست ضرب لگانے کی دھمکی دی ہے ۔ نتن یاہو نے ہفتہ واری کابینی میٹنگ میں بتایا کہ حماس نے بظاہر اس پیام کو نہیں سمجھا ہے ۔ اگر یہ حملے نہ رکیں تو انہیں بہت ہی سخت جواب دیاجائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم دوسری نوعیت کی کاروائی کے بہت قریب ہیں جس میں بہت ہی طاقتور حملہ ہوں گے ۔ اگر حماس میں ذہانت ہوتو فائرنگ اور تشدد بند کردے گا ۔ جمعہ کو اسرائیل نے غزہ پٹی کو تیل کی سربراہی کو مسدود کردیاتھا ۔ اس سے قبل سرحد پر تازہ پر تشدد واقعات ہوئے جس میں 7 فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے ہلاک کردیاتھا۔ اس سے چند دن قبول اسی مقام کو ایندھن کی سربراہی کاآغاز ہواتھا جس کامقصد اسرائیلی محاصرہ میں کمی کرناتھا جو گذشتہ 10 سال سے زائد عرصہ سے جاری ہے ۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام معاملت میں حماس کے دیرینہ تائیدی قطر نے عہد کیاتھا کہ وہ آئندہ 6ماہ کے دوران غزہ پٹی کے باہر برقی پلانٹ کو سربراہی کے لیے غزہ میں ایندھن لانے 60ملین ڈالر ادا کرے گا ۔ ہفتہ کو اسرائیلی وزیر دفاع نے بتایا کہ اگر تشدد پوری طرح ختم ہوجائے اور ساتھ ہی ساتھ اشتعال انگیز غبارے غزہ سے اسرائیل کی جانب نہ چھوڑیں جائیں اور ساتھ ہی ساتھ اسرائیل ٹاونس کے خلاف ٹائروں کو نذر آتش کرنے کی کاروائی کے اختتام پر ہی تیل کی سربراہی کادوبارہ آغاز ہوگا ۔ حماس نے اکثر سرحد پر پرتشدد مظاہرہ کئی ماہ کئے جس میں کم از کم 205 فلسطینی اور 30مارچ سے تاحال ایک اسرائیلی بھی ہلا ک ہواتھا ۔ احتجاجی مطالبہ کررہے ہیں کہ انہیں موجودہ اسرائیلی سرزمین میں لوٹنے کی اجازت دی جائے جہاں سے ان کے خاندان صیہونی مملکت کے قیام کے بعد 1948 جنگ کے بعد فرار یا بے گھر ہوئے تھے ۔ اسرائیل حماس پر الزام عائد کررہاہے کہ وہ حملوں کے لیے احتجاجی مظاہروں کے لیے استعمال کررہاہے ۔

جواب چھوڑیں