خاتون صحافیوں کے الزامات جھوٹے اور بیہودہ: ایم جے اکبر

حکومت سے استعفیٰ کا کوئی اشارہ نہ دیتے ہوئے مرکزی وزیر ایم جے اکبر نے جنہیں تقریباً 12 خاتون صحافیوں کو جنسی ہراساں کرنے کے الزام کا سامنا ہے اتوار کے دن الزامات کو جھوٹے، بیہودہ اور بے بنیاد قراردیا ۔ انہوں نے عہد کیا کہ وہ الزام لگانے والیوں کے خلاف قانونی کاروائی کریں گے۔ انہوں نے ملک واپسی کے چند گھنٹوں میں جاری بیان میں کہا کہ ثبوت کے بغیر الزامات بعض طبقات میں وائرل بخار بن چکے ہیں۔ معاملہ جو بھی ہو اب میں بیرون ملک سے واپس آگیا ہوں، میرے وکلاء ان بیہودہ اور بے بنیاد الزامات سے نمٹیں گے وہ ہمارا مستقبل کا لائحہ عمل طئے کریں گے۔ایم جے اکبر نائیجیریا کے سرکاری دورہ پر تھے۔ ان کے ساتھ 15برس قبل اخبارات میں کام کرچکی خاتون صحافیوں نے ان پر می ٹو مہم کے تحت الزامات عائد کئے ہیں۔ اکبر نے سوال کیاکہ کہیں ان الزامات میں کوئی ایجنڈہ تو نہیں کیونکہ عام انتخابات قریب ہیں۔ اکبر تو بیان جاری کرچکے ہیں لیکن حکومت اور برسراقتدار بی جے پی کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے کہ آیا ایم جے اکبر کو حکومت میں برقرار رکھاجائے گا یا نہیں۔ اپوزیشن ان کے استعفے پر زور دے رہی ہے۔ ایم جے اکبر نے پوچھا کہ یہ طوفان عام انتخابات سے چند ماہ پہلے کیوں برپا ہوا؟کیا اس میں کوئی ایجنڈہ ہے؟ ان جھوٹے بے بنیاد او ربیہودہ الزامات نے میری ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ ایشین ایج کے سابق ایڈیٹر67 سالہ اکبر نے کہا کہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے لیکن اس میں زہر ہوتا ہے جو جنون بن سکتا ہے۔ یہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ میں موزوں قانونی کاروائی کروں گا۔ اپنی سابق ساتھی پریا رمانی کے الزامات کے حوالہ سے اکبر نے کہا کہ پریارمانی نے ایک میگزین آرٹیکل کے ذریعہ یہ مہم ایک سال قبل شروع کی تھی۔ اُس نے میرا نام نہیں لیاتھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ اسٹوری صحیح نہیں۔ حال میں اس سے جب یہ پوچھاگیا کہ اس نے میرا نام کیوں نہیں لیاتو اس نے ٹوئٹ کیاتھا کہ اس لئے نہیں لیاکہ اس نے کچھ کیا ہی نہیں۔ اکبر نے کہا کہ جب میں نے کچھ کیا ہی نہیں تو پھر اسٹوری کہاں بنتی ہے۔ انہوں نے دیگر صحافیوں کے حوالہ سے کہاکہ شتاپاپال کہہ چکی ہے کہ اس شخص نے مجھ پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا۔ دی ٹیلی گراف ڈیلی اور سنڈے میگزین کے بانی ایڈیٹر ایم جے اکبر1989ء میں سیاست میں آنے سے قبل میڈیا انڈسٹری کا بڑا نام رہے ہیں۔ وہ کانگریس ٹکٹ پر لوک سبھا الیکشن لڑے تھے۔ 2014ء کے لوک سبھا انتخابات سے قبل وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے۔ مدھیہ پردیش سے رکن راجیہ سبھا ایم جے اکبر کو2016ء میں وزیر بنایاگیا۔ ایم جے اکبر نے غزالہ وہاب کے الزام کے حوالہ سے کہا کہ غزالہ کا دعویٰ ہے کہ اس سے 21برس قبل دست درازی ہوئی۔ یہ عوامی زندگی میں میرے داخلہ سے 16برس قبل کی بات ہے اس وقت میں میڈیا میں تھا۔ غزالہ وہاب کے ساتھ ایشین ایج میں کام کرتے وقت وہاں کا ہال بہت چھوٹا تھا جو پلائی ووڈ اور شیشے سے بناتھا۔ اتنی چھوٹی جگہ میں کچھ ہوسکتا ہے اس پر یقین کرنا عجیب وغریب ہے۔ یواین آئی کے بموجب مملکتی وزیرخارجہ ایم جے اکبر نے جنسی ہراسانی کے الزامات کو مستردکردیا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ وہ الزام عائد کرنے والیوں کے خلاف قانونی کاروائی کریں گے۔ انہوں نے آفریقہ کے دورہ سے نئی دہلی واپسی کے چند گھنٹوں میں ایک بیان جاری کیا اور کہا کہ میر ے خلاف الزامات جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔ ان بیہودہ الزامات سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ میرے وکلاء ان سے نمٹیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ عام انتخابات سے چند ماہ پہلے یہ طوفان کیوں برپا ہوا ہے۔

جواب چھوڑیں