رافیل معاملت ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکام

کانگریس نے رافیل معاملت پر حکومت کیخلاف اپنی تنقیدی مہم جاری رکھتے ہوئے آج دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندرمودی مذکورہ معاملت میں راست طورپر ملوث ہیں اور اِس کے بارے میں وہ( مودی) بہت کچھ چُھپاتے ہیں۔ رافیل معاملت پر مودی کی خاموشی پر اعتراض کرتے ہوئے سینئر کانگریسی رہنماء آنند شرما نے دعویٰ کیاکہ صرف وزیر اعظم ہی اس بات سے واقف تھے کہ آفسٹ کنٹراکٹس ‘ ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ(ایچ اے ایل) کو نہیں دیئے جائیں گے۔ شرما نے یہاں پارٹی دفتر پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وہ مودی کا فیصلہ تھا اور وہی اِس بات کے رازدار تھے کہ کیا ہونے والا ہے۔ یہ توقع کی گئی تھی کہ ‘ قومی اہمیت حامل اِس مسئلہ پر مودی اظہار خیال کریں گے لیکن وہ خاموش ہی رہے اور اپنی حکومت کے بارے میں بلند بانگ دعوے کرتے رہے۔ ’’ وزیر اعظم ‘ رافیل معاملت میں بہت کچھ چھُپاتے ہیں ۔ اُن کی خاموشی سے بنیادی مسائل پیدا ہوتے ہیں کیونکہ وہ( مودی) ‘ راست طورپر ملوث اور شخصی طورپر اِس کیلئے جوابدہ ہیں‘‘۔ شرما نے دعویٰ کیاکہ ملک کی تاریخ میں رافیل معاملت ‘ سب سے بڑا اسکام ہے اور کانگریس اِس کی تحقیقات کیلئے ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی ( جے پی سی) کے قیام کا مطالبہ کرتی ہے۔ شرما نے جو ماضی میں مرکزی وزیر رہے تھے‘ وزیر دفاع نرملا سیتارمن کے دورہ فرانس پر بھی اعتراض کیا۔ شرما نے کہاکہ فرانس سے خریدے جانے والے لڑاکا طیارہ کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے ۔ وزیر اعظم کو چاہئے کہ وہ اِس معاملت کے بارے میں کئی شبہات کا ازالہ کریں۔ کانگریسی رہنماء نے مزید کہاکہ اگر مذکورہ معاملت کی فورنسک آڈٹ کرائی جائے تو اِس معاملت کی مزید تفصیلات اُبھر کر سامنے آئیں گی۔ قبل ازیں موصولہ یواین آئی کے بموجب کانگریس کے سینئر لیڈر آنند شرما نے الزام لگایا ہے کہ مودی حکومت اپنی کامیابیوں پر لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے اور اس کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ملک کی معیشت مکمل طورپر چوپٹ ہوگئی ہے۔ آنند شرما نے اتوار کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ گزشتہ ساڑھے چار سال میں معیشت میں کافی گراوٹ درج کی گئی ہے۔ کسی بھی معیشت کے لئے جو معیار ہوتا ہے، اس میں کمی آئی ہے۔ ملک میں پرائیویٹ اور سرکاری شعبے میں سرمایہ کاری مسلسل کم ہوئی ہے۔ لوگوں کی بچت کی شرح میں تقریبا چھ فیصد کمی آئی ہے۔ نئی صنعتیں نہیں لگائے جانے سے صنعتی ترقی کی شرح صفر کے نیچے ہے اور پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پسند اتحاد حکومت ملک کی معیشت کو جس مقام پر چھوڑی تھی وہ اس سے کافی نیچے آ گئی ہے۔ عالمی اقتصادی بحران کے وقت میں بھی منموہن سنگھ حکومت نے معیشت کو ہموار طریقے سے رفتار دینے میں کامیاب رہی تھی۔ سابق وزیر تجارت و صنعت شرما نے کہا کہ وزیر اعظم کے نوٹ بندی کے فیصلے سے نہ صرف فیکٹری بند ہوئی بلکہ کروڑوں لوگوں کی نوکری چلی گئی۔ نوٹ بندی کے بارے میں بڑے بڑے دعوے کئے گئے اور اس کے فوائد گنائے گئے، لیکن سب ناکام ہوگئے۔ اس کے ساتھ ہی مصنوعات و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کو جس طرح پیچیدہ بنا کرلاگو کیا گیا ہے اس سے ملک کے لوگوں کی پریشانیاں بڑھی ہیں۔ انہوں نے مودی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایسا ماحول پیدا کیا گیا ہے کہ لوگوں کو بینکوں میں پیسہ رکھنے پر اعتماد نہیں ہے۔ لوگوں کو اب ایسا لگنے لگا کہ بینکوں میں ان کا پیسہ محفوظ نہیں ہے۔ مودی نے 2014 میں کہا تھا کہ ان کے وزیر اعظم بننے پر ایک ڈالر 40 روپے کے برابر ہو جائے گا لیکن صورتحال اس کے برعکس ہوگئی ہے، اور حالت بدتر ہو تی چلی جارہی ہے اور ایک ڈالر 70 روپے کا ہو گیا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مودی حکومت کی ناکامی کا ہی کھلا ثبوت ہے۔

جواب چھوڑیں