ووٹنگ مشینوں کے مسئلہ پر الیکشن کمیشن پر سازش کا شبہ!.کانگریس قائدششی دھر ریڈی کا الزام

چیرمین کانگریس الیکشن کوآرڈنیشن کمیٹی ایم ششی دھر ریڈی نے آج الزام عائد کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے کسی سیاسی جماعت کو اطلاع دئے بغیر تین دن قبل ہی الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے گودام کو کھول دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس اقدام سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن کو نوڈل آفیسرس کی موجودگی میں مشینوں کے سیل(مہر) کو توڑنے اور ان مشینوں کو دوبارہ سیل کرنے کے عمل کی ویڈیو گرافی کرنی چاہئے تھی مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ نوڈل آفیسرس کے گودام سے چلے جانے سے پہلے ہی مشینوں کے سیل کو توڑا گیا۔ نمائندہ منصف کے بموجب ششی دھر ریڈی نے انتخابی اعلامیہ کی اجرائی سے ایک ماہ قبل تلنگانہ کے انتخابی شیڈول کے اعلان پر افسوس کااظہار کیا اور الیکشن کمیشن پر دہرا معیار اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق چھتیس گڑھ میں انتخابی اعلامیہ کی اجرائی سے 15 دن قبل شیڈول کا اعلان کیا گیا جبکہ تلنگانہ میں اعلامیہ کی اجرائی کے تقریباً ایک ماہ قبل شیڈول کا اعلان کیا گیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹی آر ایس اور الیکشن کمیشن کے درمیان ساز باز ہے۔ آج یہاں گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ششی دھر ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں فہرست رائے دہندگان میں بے قاعدگیوں کا مقدمہ عدالت میں زیر دوران ہے اور فہرست رائے دہندگان میںغلطیوں کو دور کرنا ہے۔ اس دوران عجلت میں انتخابی شیڈول کا اعلان کرنا ہمارے شبہات کو تقویت بخشتا ہے۔ الکٹرانک ووٹینگ مشینوں کی جانچ میں عہدیداروں کی لاپرواہی پر تنقید کرتے ہوئے ششی دھر ریڈی نے کہا کہ مشینوں کی جانچ کے موقع پر کوئی ذمہ دار عہدیدار موجود نہیں تھا۔ صرف معمولی لیبر کو اس کی ذمہ داری دی گئی جبکہ کانگریس قائدین کو مشینوں کی جانچ کے لئے ایک دن قبل اطلاع دی گئی تھی۔ وکٹری پلے گراونڈ جہاں ای وی مشینوں کو رکھا گیا تھا وہاں مشینوں کی جانچ کیلئے ویڈیو گرافی کا انتظام نہیں تھا۔ متعلقہ عہدیدار سے ربط پیدا کیا گیا تو اس نے غلطی کا اعتراف کیا۔ کانگریس قائد نے کہا کہ اس طرح کی لاپرواہی پر عہدیداروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ ہم اس مسئلہ کو عدالت سے رجوع کریں گے۔ پریس کانفرنس میں کمیٹی کے رکن جی نرنجن بھی موجود تھے۔

جواب چھوڑیں