ٹرمپ کا دھمکی آمیز بیان‘ سعودی اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار

سعودی صحافی جمال خشوگی کے لاپتہ ہونے کے پس منظر میں برطانیہ اور امریکہ سعودی عرب میں منعقد ہونے والے ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر غور کررہے ہیں ۔ ایک بے باک سعودی حکومت کے کٹر ناقد خشوگی 2 اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانہ کے دورہ کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے ۔ استنبول کے چند سرکاری عہدیداروں نے بتایا کہ قونصل خانہ میں سعودی ایجنٹس نے صحافی کو قتل کردیا جبکہ ریاض نے اس دروغ گوئی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ۔ اس بات کااظہار بی بی سی رپورٹ میں کیاگیا ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خشوگی کے لاپتہ ہونے کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بتایا کہ اگر سعودی اس کا ذمہ دار پایاگیا اسے سزا دیں گے ۔ خشوگی کے بارے میں تشویش میں اضافہ کے بعد متعدد اسپانسرس اور میڈیا گروپس نے ریاض میں اکٹوبر میں منعقد ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس سے علحدگی کافیصلہ کیاہے ۔ اگر سعودی ایجنٹس کے ہاتھوں خشوگی کے قتل کی توثیق ہوجائے تو پھر اس سلسلہ میں مشترکہ مذمتی اعلامیہ پر امریکہ اور یوروپی سفارتکاروں کے درمیان بات چیت ہوگی ۔ تاہم خشوگی کی منگیتر ہیٹیز نے بتایا کہ اگر صحافی کو قتل کیاگیا ہے اس کے لیے الفاظ کافی نہیں ہو ں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہفتہ کے دن جمال خشوگی کی پیدائش کا دن تھا ۔ صدر امریکہ ٹرمپ نے بتایا کہ امریکہ سعودی عرب کو اس صورت میں سزا دے گا کہ مملکت صحافی کے قتل کی ذمہ دار پائی جاتی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگر صورتحال ایسی ہو تو وہ اس پر بہت ہی برہم اور اس سے پریشان ہے لیکن انہوں نے بھاری فوجی کنٹراکٹ مسدودی کے امکان کی تردید کردی ۔ ترکی کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ سعودی عرب نے تاحال تحقیقات میں تعاون نہیں کیاہے ۔ اگرچیکہ سعودی وزیر داخلہ نے بتایا کہ سچ کا پتہ چلاناچاہتے ہیں ۔ ترکی کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب سے درخواست کی کہ وہ ترک عہدیداروں کو قونصل خانہ میں داخل ہونے اجازت دیں ۔ قبل ازیں ترکی کے عہدیداروں نے بتایا کہ خشوگی ‘واشنگٹن پوسٹ میں کام کررہاتھا اور اسے قونصل خانہ میں قتل کردیاگیاتھا ۔متعدد رپورٹس سے پتہ چلتاہے کہ چند دستاویزات کے حصول کے لیے قونصل خانہ میں خشوگی کے داخل ہونے کے بعد ہاتھاپائی ہوئی تھی ۔رائٹر کے بموجب امریکہ کے صدر ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کو لاپتہ صحافی جمال خشوگی کے قتل میں ملوث ہونے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی کے بعد سعودی اسٹاک مارکیٹ 6 اعشاریہ 8 فیصد سے بھی تنزلی کا شکار ہوگئی۔خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں تداول ایکسیچینج میں اتوار کو کاروبار میں شدید مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں لاپتہ صحافی جمال خشوگی کے حوالے سے کہا کہ تھا کہ ‘ہم اس معاملے کی تہہ تک جارہے ہیں اور اس کی سخت ترین سزا ہوگی’۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر صحافی کا قتل سچ ثابت ہوا تو یہ انتہائی ہولناک اور قابل نفرت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سزا کے دیگر طریقے موجود ہیں جن میں فوجی معاہدے کو معطل کرنا بھی شامل ہے، اور یہی روس اور چین چاہتے ہیں۔دوسری جانب ترک حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جمال خشوگی کو 2 اکتوبر کو استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے کے دورے میں سعودی ایجنٹ نے قتل کردیا ہے۔سعودی عرب نے ان خدشات کو مسترد رتے ہوئے کہا تھا کہ یہ الزامات بے ‘بنیاد’ ہیں لیکن جمال خشوگی کی قونصل خانے سے واپسی کے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے۔

جواب چھوڑیں