ٹی ڈی پی‘ لیڈر اور کانگریس‘ کیڈر سے محروم : کے ٹی آر

نگرانکار وزیر انفارمیشن وٹکنالوجی و بلدی نظم و نسق کے تارک راما راؤ نے آج کہا کہ ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ، ملک کے واحد چیف منسٹر ہیں جنہوں نے کسانوں کے مسائل حل کرنے پر ترجیح دی ہے اور کسی نے بھی گزشتہ 70 برسوں کے دوران کسانوں کے مسائل حل کرنے پر غور نہیں کیا مگر کے سی آر نے اس ضمن میں مثبت قدم اٹھائے ہیں۔ عظیم اتحاد کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تلگودیشم پارٹی کے پاس قیادت کا تو، کانگریس کے پاس کیڈر کا فقدان ہے۔ اس لئے ان دونوں جماعتوں نے اسمبلی انتخابات میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کیلئے مہا کوٹمی تشکیل دی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے مختلف حربوں کے باوجود، عوام، ایک بار پھر ٹی آر ایس کو اقتدار پر فائز کریں گے۔ اس میں کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ حلقہ اسمبلی سرسلہ کے مستاآباد میں ٹی آر ایس کے انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر نے کراپ انوسٹمنٹ اسکیم کے تحت کسانوں کو فی ایکر سالانہ 8 ہزار روپے کی امداد فراہم کرنے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے۔ اس رعیتو بندھو اسکیم کو متعارف کرانے کا مقصد کسانوں کو قرض اور اس سے مربوط مسائل سے نجات دلانا ہے۔ دنیا بھر میں کسی بھی حکومت نے کراپ انوسٹمنٹ اسکیم شروع کرنے کا دلیرانہ قدم نہیں اٹھایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی آر ایس حکومت نے سینکڑوں فلاحی اسکیمات کو متعارف کرایا ہے اور ان اسکیمات سے غریب عوام مستفید ہورہے ہیں۔ ریاست میں دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد ٹی آر ایس، سماجی وظائف کی رقم کو دگنا کردے گی۔ کے ٹی آر نے آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو پر شدید تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ نائیڈو نے اپنے دور حکومت میں تلنگانہ کو تباہ کردیا تھا۔ انہوں نے نائیڈو کو تلنگانہ کے خلاف دوبارہ سازشیں کرنے پر انتباہ دیا۔ کے سی آر کے فرزند کے تارک راما رائو نے مزید کہا کہ ریاست میں اگر کانگریس برسر اقتدار آتی ہے تو وہ، کسانوں کو صرف 6 گھنٹے برقی سربراہ کرے گی اور عوام کی بہبود کو نظر انداز کردے گی۔ ریاست کی ترقی اور عوامی بہبود کی اسکیمات پر مسلسل عمل آوری کے لئے ٹی آر ایس کو دوبارہ کامیاب بنانا ضروری ہے۔ انتخابات میں عوام کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہے آپ کو نئی دہلی سے نامزد کردہ چیف منسٹر چاہئے یا تلنگانہ کا چیف منسٹر چاہئے اگر تلنگانہ کا چیف منسٹر چاہئے تو ٹی آر ایس کے حق میں ووٹ دینا ہوگا۔

جواب چھوڑیں