کراچی کے آٹورکشا ڈرائیور کے کھاتہ میں300 کروڑ روپئے جمع ۔ ایف آئی اے میں طلبی اور پوچھ تاچھ

ایک آٹو رکشا ڈرائیور اس وقت سخت خوفزدہ ہوگیا جبکہ اسے پاکستان کے سرکردہ تحقیقاتی ادارہ کافون کال موصول ہوا جس میں اس کے کھاتہ میں ہوئی 300 کروڑ روپئے مالیاتی معاملات پر وضاحت طلب کی گئی ۔ ڈرائیور کی شناخت محمد رشید کی حیثیت سے کی گئی جو کراچی میں رہتاہے ۔ اسے اس وقت اسے بھاری رقوماتی معاملتوں کا پتہ چلا جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے نے اسے وضاحت کے لیے طلب کیا ۔ رشید نے بتایا کہ اسے ایف آئی اے آفس سے فون کال موصول ہوا جس میں اسے کہاگیا کہ وہ پوچھ تاچھ کے لیے حاضر ہو ۔ اس نے بتایا کہ وہ جو کچھ ہوا اس سے وقف نہیں تھا لہذا وہ بہت زیادہ خوفزدہ ہوگیا ۔ جب وہ ایف آئی اے آفس پہنچا تو اس کے بینک کھاتوں کا ریکارڈپیش کیاگیا ۔ ایف آئی اے عہدیداروں نے اسے بتایا کہ اس کی تنخواہ کے بینک کھاتہ کے ذریعہ 300 کروڑ روپئے کی معاملتیں کی گئیں جبکہ اس نے 2005 میں اس وقت کھاتہ کھولا تھا جس وقت وہ ڈرائیور کی حیثیت سے ایک خانگی کمپنی میں کام کررہاتھا۔ رشید نے بتایاکہ خود ذاتی طور پر کام کرنے شروع کرنے کے لیے اس نے ماہ بعد ملازمت چھوڑ دیاتھا ۔ اس نے اظہار افسوس کرتے ہوئے بتایا کہ 300 کروڑ روپئے اس کے لیے ایک خواب ہے اس نے اپنی زندگی میں ایک لاکھ روپئے بھی نہیں دیکھا ہے ۔ اس کے سابق آجر کے بارے میں پوچھ تاچھ پر رشید نے بتایا کہ وہ اس کا نام بھول گیا ہے ۔اس نے بتایا کہ اس کا خاندان اور وہ خود ایک کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں اور وہ اپنے گذارہ کے لیے سخت محنت کرتاہے ۔ وہ اتنی خطیر رقم کا تصور تک نہیں کرسکتا ۔ اسے شبہ ہے کہ اس کے اکاونٹ کو چند دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیاجارہاہے ۔ رشید نے ایف آئی اے عہدیداروں کو اس کے موجودہ مالی موقف سے واقف کروادیا۔ کراچی کے اورنگی ٹاون کے اشیائے خوردو نوش فروخت کرنے والوں کو بھی اس وقت شدید حیرت ہوئی جبکہ اس کے کھاتہ میں 200 کروڑ کاپتہ چلا ۔ ایف آئی اے بڑے پیمانہ پر غیر قانونی رقومات کی منتقلی کے لیے سپریم کورٹ نے اس طرح کا تحقیقاتی یونٹ جے آئی ٹی کا تقرر کیاہے جس کے بعد ایف آئی اے بڑے پیمانہ پر رقومات کی ایسے کیسس کی تحقیقات کررہی ہے ۔ چند کیسس میں غریبوں کے ایسے بینک کھاتہ جو زیر استعمال نہیں تھے انہیں چند بینک عہدیداروں کے ساتھ ساز باز کے ساتھ بڑی معاملتوں کے لیے دوبارہ زیر استعمال لایاگیا ۔

جواب چھوڑیں