گڑگاؤں فائرنگ‘ جج کی بیوی کی موت

ہریانہ کے اس شہر کے پُرہجوم بازار میں پرسنل سیکیوریٹی گارڈ نے کل جس جج کی بیوی کو مبینہ طور پر گولی ماری تھی اس نے آج دم توڑدیا۔ عہدیداروں نے اتوار کے دن یہ بات بتائی۔ ایڈیشنل سیشن جج کرشن کانت کی بیوی 45 سالہ ریتو اور لڑکا دھرو(18سالہ) ہفتہ کے دن آرکیڈمارکٹ میں شاپنگ کے لئے گئے تھے۔ گارڈ مہیپال نے انہیں گولی ماردی تھی۔ دونوں کو نازک حالت میں ہسپتال پہنچایاگیا تھا۔ ریجنل میڈیکل آفیسر گڑگاؤں سیول ہاسپٹل پون چودھری نے ریتو کی موت کی توثیق کی اور کہا کہ پوسٹ مارٹم ہوچکا ہے۔ لڑکے کی حالت ہنوز نازک ہے۔ پولیس نے بتایاکہ فائرنگ کل لگ بھگ 3:30 بجے (سہ پہر) ہوئی۔ ایک پولیس عہدیدار نے بتایاکہ ریتو کے سینہ میں اور دھرو کے سر میں گولی لگی تھی۔ ملزم سے ابتدائی پوچھ تاچھ کے بعد پولیس عہدیداروں نے بتایاکہ وہ ہریانہ پولیس کا ہیڈکانسٹبل ہے اور 2 سال سے جج کا گارڈ تھا۔ وہ گذشتہ چند دن سے گھرجانے کے لئے رخصت مانگ رہاتھا جو نہیں دی گئی۔ شاید اسی ڈپریشن میں اس نے گولی چلائی ۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ جج اسے اکثر ڈانٹاکرتا تھا۔ ہفتہ کے دن بھی جج کی بیوی نے کارکے اندر اسے اس وقت ڈانٹاتھا جب وہ مارکٹ جارہے تھے۔ گارڈ کو جج سے نفرت ہوگئی تھی۔ ایک عینی شاہد نے فائرنگ کا ویڈیو فوٹیج بھی بنایا۔آئی اے این ایس کے بموجب فارنسک ماہر اور ڈاکٹر دیپک ماتھر نے بتایاکہ 38 سالہ ریتو کی موت کل رات ہوئی۔ جج کے لڑکے کی حالت انتہائی نازک ہے۔ ہریانہ پولیس کانسٹبل مہیپال سنگھ کو فرید آباد فرارہونے کی کوشش کے دوران گرفتارکرلیاگیا۔ وہ مہندرگڑھ سے تعلق رکھتا ہے۔ سکٹر49 میں فائرنگ کے واقعہ کے وقت جج سرکاری کار میں موجود نہیں تھے۔ ماتھر نے آئی اے این ایس کو بتایاکہ ریتو کے سینہ میں دو گولیاں لگی تھیں اور اُن کی موت خون زیادہ بہہ جانے سے ہوئی۔ ڈی سی پی ایسٹ گروگرام کی قیادت میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو اس کیس کی تحقیقات کرے گی۔ ایس آئی ٹی میں تین اے سی پی اور سیکٹر50 پولیس اسٹیشن کا ایچ ایس او شامل ہوں گے۔

جواب چھوڑیں