اچھا ہندو‘ رام مندر کی تعمیر کی حمایت نہیں کرے گا: ششی تھرور

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے آج کہا ہے کہ ایودھیا میں منہدمہ بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر سے متعلق اُن کے الفاظ کو ’’ بدنیتی کے ساتھ توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے‘‘۔اِس حرکت کی وہ مذمت کرتے ہیں۔ یہاں یہ تذکرہ بیجانہ ہوگا کہ ششی تھرور نے چینائی میں ایک ادبی فیسٹیول کے موقع پر اپنے اِن ریمارکس کے ذریعہ تنازعہ کھڑا کردیا کہ کوئی ’’ اچھا ‘‘ ہندو‘ ایودھیا میں کسی اور کے مقام عبادت کو منہدم کرکے رام مندر کی تعمیر کی حمایت نہیں کرے گا۔ اِس بیان پر بی جے پی نے شدید تنقید کی ہے اور کانگریس ونیز اُس کے صدر راہول گاندھی کو ’’ مخالف ۔ ہندو‘‘ قراردیا ہے۔ تھرور نے کہاکہ ’’ بحیثیت ایک ہندو‘ وہ بہت ہی محتاط وباشعور ہیں کہ ہندوئوں کی ایک بڑی اکثریت اِس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ایودھیا‘ لارڈ رام کا مصرحہ مقام پیدائش ہے‘‘۔ایک نیوز چینل نے یہ اطلاع دی۔ موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ تھرور نے کہا ہے کہ ’’ اور اِس وجہ سے بیشتر اچھے ہندو یہ دیکھنا چاہیں گے کہ رام مندر وہاںہو‘ جہاں ‘ سمجھا جاتا ہے کہ رام پیدا ہوئے تھے لیکن میں اِس بات پر بھی یقین رکھتاہوں کہ کوئی اچھا ہندو یہ نہیں چاہے گا کہ کسی اور شخص کی عبادت گاہ کو منہدم کرکے مندر تعمیر کیا جائے‘‘۔ تھرور نے اِس طرح دسمبر 1992 میں ہوئے واقعہ کا حوالہ دیا جس میں ہزاروں کارسیوکوں نے بابری مسجد کو منہدم کردیا تھا۔ بی جے پی کے لیڈر نلین کوہلی نے ششی تھرور کو ‘ اُن کے مذکورہ بیان پر ہدف تنقید بنایا اور کہاکہ ’’ کانگریس یا تھرور‘ فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں؟ ۔ وہ ‘ یہ سرٹیفیکٹ دینے والے کون ہوتے ہیں کہ اچھا ہندو کو ن ہے اور خراب ہندو کون ہے؟ ۔وہ‘ کروڑ وں عوام کے عقیدہ سے کس طرح کھیل سکتے ہیں؟‘‘۔ تھرور کے بیا ن پر کئی گوشوں سے شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے اور تھرور نے اپنے ٹوئیٹس کے ذریعہ ‘ ریکارڈ کو سیدھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی دوران موصولہ اطلاعات کے بموجب کانگریس نے ششی تھرور کے اِن ریمارکس سے بے تعلقی ظاہر کی کہ کوئی بھی اچھا ہندو ‘ ایودھیا میں کسی اور کے مقام عبادت کو منہدم کرتے ہوئے رام مندر نہیں چاہے گا۔ کانگریس نے کہا ہے کہ تھرور نے مذکورہ ریمارکس اپنی ’’ شخصی حیثیت‘‘ میں کئے ہیں۔ کانگریس کے ترجمان آرپی این سنگھ نے کہاکہ پارٹی کو یقین ہے کہ رام مندر مسئلہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کی تعمیل ہرشخص پر لازمی ہے اور حکومت کو اِس فیصلہ پر عمل کرنا ہوگا۔

جواب چھوڑیں