ایم جے اکبر کے خلاف یوتھ کانگریس کارکنوں کا احتجاج

یوتھ کانگریس کارکنوں نے آج مرکزی وزیر ایم جے اکبر کی قیامگاہ کے قریب احتجاج منظم کیا اور کئی خاتون صحافیوں کی جانب سے جنسی بدسلوکی کے الزامات پر ان سے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ کارکن ، تین مورتی چوراہے پر جمع ہوئے اور مملکتی وزیر خارجہ کے خلاف نعرے بازی کی ۔ انہوں نے ان کی قیامگاہ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی ، جہاں پولیس نے انہیں روک دیا۔ بعض احتجاجیوں نے پولیس کی رکاوٹوں کو ہٹاکر آگے بڑھنے کی کوشش کی ۔ یوتھ کانگریس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انڈین یوتھ کانگریس (آئی وائی سی) ایم جے اکبر جنسی بدسلوکی اور صحافیوں کی ہراسانی پر ان کے خلاف احتجاج کررہی ہے۔ تقریباً 10 خاتون صحافیوں نے ایم جے اکبر کی جانب سے انہیں جنسی ہراسانی کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ بی جے پی زیرقیادت حکمراں این ڈی اے اتحاد کو جس نے ’’بیٹی بچاؤ ، بیٹی پڑھاؤ ‘‘ کے بلند بانگ دعوے کیے تھے ، اسے ایک ایسے شخص کو بچانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے جس کا رویہ قابل اعتراض ہے۔ اسی دوران موصولہ علیحدہ اطلاع کے مطابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات پر پہلی مرتبہ تبصرہ کرتے ہوئے بی جے پی نے آج کہا کہ انہوں (اکبر ) نے اس تنازعہ پر اپنا بیان دے دیا ہے۔ پارٹی کا ان کے بیان سے اتفاق کرنا یا نہ کرنا ایک الگ مسئلہ ہے۔ بی جے پی ترجمان جی وی ایل نرسمہا راؤ سے ایک پریس کانفرنس میں دریافت کیا گیاتھا کہ آیا حکمراں جماعت خواتین صحافیوں کی جانب سے ایم جے اکبر کے خلاف عائد کردہ الزامات پر ان کے بیان سے اتفاق کرتی ہے ۔ راؤ نے کہا کہ اتفاق کرنا یا نہ کرنا ایک الگ مسئلہ ہے ۔ انہوں نے اپنا بیان دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ بی جے پی قائدین اور ترجمانوں نے اب تک اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کر رکھی تھی ، جب کہ وزیر موصوف سے استعفیٰ دینے کے مطالبات میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔

جواب چھوڑیں