ایپا مندر مسئلہ ، ترواننتا پورم میں بی جے پی کی زبردست ریالی۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے نفاذ کی مخالفت

سابری ملا مندر میں تمام عمر کی خواتین کو داخلہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے نفاذ کے خلاف احتجاج کے لیے ہزاروں بی جے پی کارکنوں نے آج یہاں سکریٹریٹ پر مارچ کیا ۔ ایک اور واقعہ میں ٹراونکور دیوا سوم بورڈ نے مندر کے مختلف ذمہ داران بشمول تانتری (بڑے پجاری ) خاندان ، پنڈالم شاہی خاندان کے ارکان اور ایپا سیوا سنگم کے ارکان کو کل یہاں ایک میٹنگ کے لیے مدعو کیا ہے اس میٹنگ میں جو 17 نومبر سے شروع ہونے والے سالانہ منڈلم ۔ مکارا ویلکو یاتری موسم کی تیاریوں پر تبادلۂ خیال کے لیے منعقد کی جارہی ہے، سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ پر بھی تبادلۂ خیال متوقع ہے ۔ ماہانہ رسومات کے لیے مندر کو چہارشنبہ سے دوبارہ کھولا جائے گا۔ بی جے پی کارکنوں نے جن میں خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد بھی شامل تھی ، لارڈ ایپا کے منتر پڑھتے ہوئے یہاں سکریٹریٹ پر مارچ کیا ۔ وہ اپنے ہاتھوں میں ایپا کی پھول پہنی ہوئی تصاویر بھی اٹھائے ہوئے تھے۔ اس مارچ کا آغاز گذشتہ ہفتہ پنڈالم سے ہوا تھا۔ لارڈ ایپا کے ماننے والوں کے جذبات کا لحاظ کیے بغیر سپریم کورٹ کے فیصلہ کو نافذ کرنے بایا بازو حکومت کے فیصلہ کے خلاف بطورِ احتجاج یہ مارچ منظم کیا گیا ۔ بی جے پی نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ فیصلہ کو نافذ کرنے کی کوشش پہاڑی پر واقع اس مندر کو تباہ کرنے کی سازش ہے ۔ نومبر کے وسط سے شروع ہونے والے تین ماہ طویل یاتریوں کے موسم کے دوران یہاں ملک و بیرونِ ملک سے لاکھوں افراد جمع ہوتے ہیں ۔ بی جے پی کے ریاستی صدر پی ایس سری دھرن پلے کی زیرقیادت اس مارچ میں کئی سینئر این ڈی اے قائدین بشمول اداکار سے سیاست داں بنے رکن پارلیمنٹ سریش گوپی ، بھارتیہ دھرما جن سینا کے صدر ٹی ویلا پلی بھی شامل تھے ۔ پلے نے کہا کہ اگر ریاستی حکومت اس مسئلہ کو جلد از جلد حل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو بی جے پی ۔ این ڈی اے کا احتجاج ایک نیا موڑ لے لے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کیرالا میں ہر گاؤں والے سے ملاقات کریںگے اور سابری ملا مندر ، اس کی صدیوں قدیم روایات اور لارڈ ایپا کے ماننے والوں کے جذبات کے تحفظ کے لیے ایک بڑا احتجاجی منصوبہ وضع کریںگے ۔ بی جے پی نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ سابری ملا مسئلہ پر احتجاج کا پہلا مرحلہ ایک بڑا سنگ ِ میلا ثابت ہوا ہے ، کہا کہ اگر سی پی آئی ایم زیرقیادت ایل ڈی ایف حکومت آئندہ 24 گھنٹوں میں اس مسئلہ کا کوئی حل تلاش نہیں کرپاتی ہے تو پارٹی کی زیرقیادت این ڈی اے اپنے مقصد کے حصول کے لیے ایک بڑے احتجاج کا منصوبہ وضع کرے گی۔ سابری ملا مندر کو جسے 17 اکتوبر کی شام کھولا جائے گا ، ملیالم مہینے ’’پھولم‘‘ کی پانچ روزہ ماہانہ پوجا کے بعد 22 اکتوبر کو بند کردیا جائے گا ۔ ریاستی دارالحکومت میں سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں ، بالخصوص ان راستوں پر جہاں سے بی جے پی کا مارچ گذرا ہے ۔

جواب چھوڑیں