شراب کی فروخت کو محدود رکھنے بی جے پی کی تجویز ‘ جماعتوں کی رائے منقسم

تلنگانہ میں شراب کی فروخت کو محدود رکھنے سے متعلق بی جے پی کی تجویز پر جس کو پارٹی کے منشور میں شامل کیا گیا ہے‘ سیاسی جماعتوں کی رائے منقسم ہے۔ اگر چیکہ ریاستی بی جے پی نے انتخابی منشور جاری نہیں کیا ہے مگر ریاست میں شراب کی فروخت کو باقاعدہ بنانے سے متعلق تجویز کو منشور میں شامل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی جے پی کی اس تجویز پر ٹی آر ایس کی رائے پوچھے جانے پر تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) کے سینئر قائد نے کہا کہ ان کے منشور پر میں کس طرح تبصرہ کرسکتا ہوں۔ ٹی آر ایس کے ایک اور قائد نے کہا کہ بی جے پی نے اپنا انتخابی منشور جاری نہیں کیا ہے۔ جب اس کا منشور جاری ہوگا تب‘ پارٹی اس پر اپنا رد عمل دے گی۔ کانگریس کے ایک فعال واہم قائد نے کہا کہ شخصی طورپر وہ اس تجویز کا خیرمقدم کریں گے مگر انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ شراب پر مکمل امتناع سے سرکاری آمدنی پر اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کوگذشتہ ساڑھے چار برسوں سے شراب کی فروختگی کے ذریعہ سالانہ 8ہزار کروڑ تا 20ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی حاصل ہورہی ہے۔ سی پی آئی کے قومی جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی نے بی جے پی کی اس تجویز کو ناقابل توجہ قرار دیا اور کہا کہ بی جے پی‘ کسی بھی طریقہ سے برسر اقتدار آنے والی نہیں ہے۔ اس طرح کی تجویز رکھنے کے باوجود اسے کامیابی ملنے والی نہیں ہے۔ بی جے پی کی یہ تجویز‘ کھوکھلے وعدوں کی طرح ہے جس طرح قومی سطح پر بی جے پی کیمنشور میں نریندر مودی نے ہر خاندان کو 15لاکھ روپئے دینے کا وعدہ کیا تھا جو اب تک پورا نہیں ہوسکا۔ اس طرح ریاست میں شراب کی فروخت کو محدود کرنے سے متعلق بی جے پی کی تجویز بھی ناقابل عمل ہے۔ ایس سدھاکر ریڈی نے پی ٹی آئی کو یہ بات بتائی۔ 2014کے انتخابات میں بی جے پی نے تلگودیشم کی مفاہمت سے اسمبلی کی 5نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ ٹی ڈی پی کو 15نشستوں پر کامیاب حاصل ہوئی تھی۔ دسمبر میں منعقد شدنی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی تنہا مقابلہ کر رہی ہے۔ بی جے پی نے انتخابی منشور میں شراب کی فروخت کو باقاعدہ بنانے پر کام کرنے کی تجویز رکھی ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ ریاست میں شراب کی کھلے عام فروخت اور شراب نوشی سے کئی سماجی جرائم اور نظم وضبط کے مسائل پیش آرہے ہیں۔ بی جے پی نے شراب کی فروخت کو ہفتہ کے 5دنوں تک محدود رکھنے کی تجویز رکھی ہے۔ صرف ان پانچ دنوں میں شراب کی فروخت کو باقاعدہ بنایا جائے گا۔ شراب کی فروخت کیلئے ہر روز اوقات مقرر کئے جائیں گے۔ شام 6بجے کے بعد کوئی شراب کی دکان یا بار شاپ کھلی نہیں رہے گی۔ بی جے پی کی انتخابی منشور کمیٹی کے صدرنشین این وی ایس ایس پربھاکر نے یہ بات بتائی۔ حکومت تلنگانہ کے علاوہ متحدہ ریاست میں سابق حکومتوں نے شراب کی فروخت کو آمدنی کا ذریعہ بنالیا تھا۔ پربھاکر نے کہا کہ شراب نوشی سے کئی مسائل بشمو ل سماجی جرائم‘ خواتین پر مظالم اور نظم وضبط کا مسئلہ بھی پیدا ہورہا ہے۔

جواب چھوڑیں