طیب اردغان کی شاہ سلمان سے فون پر بات چیت

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ٹیلیفون پر ترکی کے صدر طیب اردگان سے لاپتہ صحافی جمال خشوگی کے معاملے پر بات چیت کی۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق استنبول کے سعودی قونصل خانے میں لاپتہ ہوجانے والے صحافی جمال خشوگی کا معاملہ عالمی قوتوں کی توجہ حاصل کرنے کے بعد اب سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ساتھ عالمی تناو کا باعث بن گیا ہے۔گزشتہ شب سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ترکی کے صدر طیب اردگان کو فون کیا اور سعودی صحافی کی گمشدگی پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماوں نے اس سنگین معاملے کے ہر پہلو پر تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر ترک صدر طیب اردگان نے جمال خشوگی کی گمشدگی پر مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کی تجویز دی۔ سعودی عرب کے فرمانروا نے ترک صدر کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے تجویز پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی۔سعودی فرمانروا شاہ سلمان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب اپنے برادر ملک ترکی کے ساتھ خوش گوار تعلقات کا خواہاں ہے اور تعلقات کو گزند پہنچانے والے کسی معاملے کو حل کیے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔ترک صدر طیب اردغان نے شاہ سلمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کی حکومت اور عوام سعوی حکومت اور سعودی عوام کے ساتھ قریبی اور تاریخی نوعیت کے گراں قدر تعلقات کو قائم رکھنے کی خواہاں ہے۔ریاض حکومت کے ناقد سعودی صحافی جمال خشوگی کی ترک شہر استنبول میں پراسرار گمشدگی کا معمہ ابھی تک حل نہیں ہوا۔ اس بارے میں پہلی بار سعودی عرب کے شاہ سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردغان کے مابین ٹیلیفون پر گفتگو بھی ہوئی ہے۔انقرہ میں ترک صدر کے دفتر کی طرف سے پیر 15 اکتوبر کو بتایا گیا کہ ریاض حکومت کے ناقد سعودی صحافی جمال خشوگی کی استنبول میں قریب دو ہفتے قبل اچانک گمشدگی کے بعد سے ترک صدر اردغان نے اس بارے میں پہلی بار ٹیلی فون پر سعودی عرب کے شاہ سلمان کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ ترک صدارتی دفتر کے مطابق اس بات چیت میں ’خشوگی کے پراسرار طور پر لاپتہ ہو جانے کے واقعے پر روشنی ڈالنے کی کوشش‘ کی گئی۔ریاض میں سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اس مکالمت میں شاہ سلمان نے ترکی اور سعودی عرب کے مابین ’مضبوط تعلقات‘ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاض اور انقرہ دونوں میں سے ’کوئی بھی نہیں چاہتا کہ دو طرفہ روابط کی مضبوطی اور گہرائی متاثر ہو‘۔اس کے علاوہ شاہ سلمان نے اس وجہ سے بھی ترک سربراہ مملکت کا شکریہ ادا کیا کہ صدر اردغان جمال خشوگی کی گمشدگی کے معاملے کی وضاحت کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیشن کے قیام پر راضی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مبینہ طور پر اس قتل سے متعلق ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگز بھی موجود ہیں۔سعودی عرب کی حکومت تاہم ایسے تمام الزامات مسترد کرتی ہے۔ دوسری طرف ریاض میں حکمران ابھی تک اس سلسلے میں بھی کوئی شواہد پیش نہیں کر سکے کہ جمال خشوگی استنبول میں سعودی قونصلیٹ سے زندہ باہر نکلے تھے۔دریں اثناء سعودی عرب پر امریکہ کے علاوہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی طرف سے بھی کافی سفارتی دباؤ ہے۔ اب ان تینوں یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی ریاض حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خشوگی کی گمشدگی کے معاملے کی جلد از جلد وضاحت کو یقینی بنائے۔ان تینوں یورپی وزرائے خارجہ کے اتوار 14 اکتوبر کو جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا، ’’ہم اس معاملے کو بڑی سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اس بارے میں سعودی حکومت کی طرف سے ایک مفصل اور جامع جواب کے انتظار میں ہیں۔‘‘سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے اتوار کی شب ٹیلیفون پر ترکی کے صدر رجب طیب اردغان سے بات چیت کی۔ شاہ سلمان نے سعودی شہری جمال خشوگی کی روپوشی کا معمّہ حل کرنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ سے متعلق سعودی عرب کی تجویز کا خیر مقدم کرنے پر ترکی کے صدر کا شکریہ ادا کیا۔خادم حرمین شریفین نے باور کرایا کہ مملکت اپنے برادر ملک ترکی کے ساتھ تعلقات کا اتنا ہی زیادہ خواہاں ہے جتنا کہ ترکی ہے اور ان تعلقات کی مضبوطی کو ہر گز کوئی گزند نہیں پہنچائی جا سکتی۔دوسری جانب ترکی کے صدر نے باور کرایا کہ دونوں ملکوں اور ان کے عوام کے درمیان قریبی، امتیازی اور تاریخی نوعیت کے برادرانہ اور گراں قدر تعلقات قائم ہیں۔ اردغان نے کہا کہ وہ ان تعلقات کو مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔

جواب چھوڑیں