نوجوت سنگھ سدھو کو برطرف کردیا جائے: بی جے پی

کانگریس پر مخالف ہند ذہنیت والی جماعت ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے بی جے پی نے پیر کے دن کانگریس صدر راہول گاندھی سے معافی مانگنے اور پنجاب کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو کو ان کے دورہ پاکستان کا جنوبی ہند سے تقابل پر برطرف کردینے کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی ترجمان جی وی ایل نرسمہاراؤ نے میڈیا سے کہاکہ ملک کو توڑنا راہول گاندھی کا نیا نعرہ ہے۔ کانگریس اب سیاسی جماعت نہیں رہی بلکہ مخالف ہند ذہنیت والی تنظیم بن گئی ہے۔ نوجوت سنگھ سدھو نے کسؤلی میں خشونت سنگھ لٹریچر فیسٹیول میں حال میں کہا تھا کہ پاکستان کا کلچر جنوبی ہند کے مقابلہ پنجاب سے زیادہ ملتا جلتا ہے۔ مجھے جنوبی ہند کی زبان سمجھ میں نہیں آتی۔ مجھے وہاں کی غذا بھی پسند نہیں۔ وہاں کا کلچر بالکل مختلف ہے۔ جب میں پاکستان جاتا ہوں تو وہاں کی زبان ہندوستانی پنجاب جیسی ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں 10 بار انگریزی میں دی گئی گالی پر ایک پنجابی گالی بھاری پڑتی ہے۔ جی وی ایل نرسمہاراؤ نے کہا کہ سدھو کو جنوبی ہند والوں کی بے عزتی کا کوئی حق نہیں۔ آپ اپنے نیتا سے پیار کرسکتے ہیں ‘ پاستا اور پیزا یا کراچی کلچے آپ کو پسند ہوسکتے ہیں لیکن آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجھے جنوبی ہند سے زیادہ پاکستان پسند ہے۔ یو این آئی کے بموجب جی وی ایل نرسمہاراؤ نے کہا کہ کانگریس ‘ پاکستان سے پریم کرسکتی ہے لیکن اسے جنوبی ہند کے عوام کی بے عزتی کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس صدر راہول گاندھی اپنی پارٹی کا بھلا نہیں کرسکتے۔ کانگریس قائدین گجرات کی پرامن ریاست میں بے چینی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ بہار اور اترپردیش کے لوگوں کو ریاست چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ جی وی ایل نے کہا کہ آپ کو کراچی کلچہ پسند ہوسکتا ہے لیکن جنوبی ہند کے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا آپ کو کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم پی وی نرسمہاراؤ جو کانگریس میں دانشور قائد تھے‘ ان کی اپنی پارٹی میں بے عزت کئے گئے۔ سابق وزیراعظم کی نعش کو اُس وقت کی کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پارٹی ہیڈکوارٹرس لانے نہیں دیا حالانکہ ڈاکٹر منموہن سنگھ اس کے لئے آمادہ تھے۔ سونیا گاندھی جنوبی ہند مخالف ذہنیت رکھتی ہیں۔ ہندوستان کی معاشی اصلاحات کے حقیقی روح رواں کی دہلی میں کوئی یادگار نہیں۔ کانگریس قائد ششی تھرور کے ریمارکس کے حوالہ سے جی وی ایل نرسمہاراؤ نے کہا کہ کانگریس تمام وسائل اور قائدین کو استعمال کررہی ہے کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی مخالفت کی جائے۔ انہوں نے شیو بھکت راہول گاندھی سے سوال کیا کہ وہ بتائیں کہ آیا وہ ہندو ہیں یا نہیں؟ ۔

جواب چھوڑیں