ٹی آر ایس حکومت تمام محاذوں پر ناکام‘ مرکزی مملکتی وزیر نڈا کا الزام

مرکزی مملکتی وزیر صحت وخاندانی بہبود جگت پرکاش نڈا نے ٹی آر ایس سربراہ ونگرانکار چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک ملک‘ ایک الیکشن کی تائید کرنے والے‘ کے سی آر نے اپنے موقف سے انحراف کرتے ہوئے میعاد سے قبل اسمبلی تحلیل کرتے ہوئے ریاست میں قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار کی ہے۔ کے سی آر کو اپنے موقف سے انحراف اور اسمبلی تحلیل کرنے کی وجوہات سے عوام کو واقف کرانا ہوگا۔ جگت پرکاش نڈا نے جو تلنگانہ میں بی جے پی کی انتخابی مہم کے انچارج بھی ہیں‘ پیر کو پارٹی کے ریاستی ہیڈ کوارٹر میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دراصل کے سی آر پر 2019میں مودی لہر کا خوف طاری تھا وہ اس لہر کو روکنے میں ناکام رہتے‘ مودی لہر کا سامنا کرنے کے بجائے کے سی آر نے ریاست میں قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار کی ہے۔ تمام محاذوں پر ٹی آر ایس حکومت کو ناکام قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا ریاست کے نوجوان‘ کے سی آر کے خلاف ہیں‘ عوام‘ حکومت سے خوش نہیں ہیں۔ کسان‘ خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔ مرکزی حکومت نے عوام کی بہبود اسکیمات کو متعارف کرایا ہے مگر تلنگانہ کی حکومت نے ریاست میں مرکز کی ان اسکیمات کو رائج نہیں کیا ہے۔ مرکز نے ایوشمان بھارت پروگرام کے تحت تلنگانہ کو 172کروڑ روپئے دئیے مگر حکومت تلنگانہ نے اس رقم کا استعمال نہیں کیا جو عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت‘ مختلف بدعنوانیوں اور اسکامس میں ملوث ہے۔ ایم جے اکبر کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں جو کہنا تھا کہہ چکے ہیں نڈا نے کہا کہ مودی حکومت‘ تمام خواتین کا احترام کرتی ہے ان کی عزت نفس اور عصمت کے تحفظ کیلئے اقدامات پر کاربند ہے۔ تلنگانہ کو بھاری فنڈس اجرائی کے باوجود ریاستی وزراء کی جانب سے مرکز کو تنقید کا نشانہ بنانا مضحکہ خیز ہے۔ بی جے پی نے اسمبلی انتخابات میں تنہا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور انہیں یقین ہے کہ ہماری پارٹی‘ ٹی آر ایس کا حقیقی متبادل بنے گی۔

جواب چھوڑیں