کے سی آر نے کنٹراکٹرس سے کمیشن حاصل کیا۔کانگریس قائد جئے پال ریڈی کا الزام

سابق مرکزی وزیر ایس جئے پال ریڈی نے آج یہاں گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کے سی آر نے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کے نام پر آندھرائی کنٹراکٹرس کو کروڑہا روپیہ کے ٹنڈر آلاٹ کئے۔ صرف میگا کرشنا ریڈی کی کمپنی کو 43,436 کروڑ کے آبپاشی پراجکٹ کے ٹنڈر الاٹ کئے گئے۔ ایک اور کمپنی کو 60,436 کروڑ کا کنٹراکٹ دیا گیا۔ کویا کمپنی کو 14 ہزار کروڑ کا کنٹراکٹ دیا گیا۔ نوامیگاکمپنی کو 17 ہزار کروڑ کا کنٹراکٹ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے میگا کرشنا ریڈی سے کمیشن وصول کیا ہے۔ میرے پاس اس کے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں کے سی آر کو چیالنج کیا اور کہا کہ کسی بھی مقام پر انہیں مدعو کیا جائے وہ وہاں پہنچکر ثبوت پیش کرنے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے برسر اقتدار آنے کے بعد کے سی آر کی تمام بدعنوانیوں کی تحقیقات کرائی جایں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں کسی ایک کنٹراکٹر کو اتنی بڑی رقم کا کنٹراکٹ نہیں دیا گیا جتنا کہ میگا کرشنا ریڈی کی کمپنی کو کنٹراکٹ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام کنٹراکٹرس کا تعلق آندھرا سے ہے۔ کے سی آر نے اپنے 4 سالہ دورِ حکومت میں تلنگانہ کی دولت کو آندھرائی کنٹراکٹرس کے ہاتھوں لٹادی اور تلنگانہ ریاست کو قرض کے دلدل میں ڈھکیل دیا۔ جئے پال ریڈی نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کے تخمینہ مصارف میں 3 گنا اضافہ کردیا گیا۔ دن دھاڑے لوٹ مارکی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 4 سال میں ایک بھی پراجکٹ کو مکمل نہیں کیا گیا۔ کانگریس قائد نے کہا کہ کے سی آر کو عوام کے روبرو اس کا جواب دینا پڑے گا۔ آئندہ انتخابات میں عوام انہیں نہیں بخشیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سارے تلنگانہ میں کانگریس کی زبردست لہر چل رہی ہے۔

جواب چھوڑیں