آئی سی سی کا خواتین کے تحفظ سے متعلق پالیسی بنانے کا فیصلہ

دنیا بھر میں ‘می ٹو’ مہم کے پیش نظر بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کرکٹ میں خواتین کے جنسی استحصال کے خلاف سختی سے قدم اٹھاتے ہوئے آئندہ خاتون ورلڈ کپ ٹوئنٹی 20 سے قبل ‘خواتین کی حفاظت اور رہنما یانہ اصول’ پالیسی بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔’می ٹو’ مہم کے دوران کئی کرکٹروں اور افسران پر بھی جنسی استحصال کے الزامات عائد ہوئے ہیں۔ ایسے میں آئی سی سی نے اس معاملے پر سختی سے قدم اٹھایا ہے اور وہ ویسٹ انڈیز میں نو نومبر سے شروع ہونے والے خواتین ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے مذکورہ پالیسی کو نافذ کرنا چاہتی ہے ۔آئی سی سی سنگاپور میں بدھ سے شروع ہونے والی میٹنگ میں اس پالیسی پر بات چیت کرے گی۔گزشتہ 18 مہینوں میں آئی سی سی کے ٹورنمنٹوں، بین الاقوامی میچوں اور عالمی کرکٹ میں مبینہ جنسی استحصال کے معاملات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے پیش نظر اس پالیسی کو جلد نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔واضح رہے کہ حال ہی میں می ٹو مہم کے تحت ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے چیف ایگزیکٹو راہل جوہری پر ایک نامعلوم خاتون نے جنسی استحصال کا الزام لگایا ہے جبکہ سری لنکا کے کرکٹر لست ملنگا پر بھی انڈین پریمیئر لیگ کے دوران ایک خاتون نے جنسی استحصال کا الزام عائد کیا۔اگرچہ ابھی تک ان الزامات پر کسی طرح کا نوٹس نہیں لیا گیا ہے ۔

جواب چھوڑیں