اپوزیشن جماعتیں منصوبہ اور منشور سے عاری: چندر شیکھر راؤ

نگران کار چیف منسٹر و صدر تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ریاست میں ٹی آر ایس کا دوبارہ اقتدار حاصل کرنا طئے ہے اور اب ٹی آر ایس کی کوشش صرف یہی ہے کہ ایک مستحکم حکومت تشکیل دینے کیلئے زیادہ سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کی جائے ۔ آج تلنگانہ بھون میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے اپوزیشن جماعتوں کو منصوبہ اور منشور سے عاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں حصول اقتدار کی فکر میں اندھی ہوگئی ہیں۔ پرامن تلنگانہ سماج کو مقامی اور غیر مقامی کے نام پر تقسیم کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چندر شیکھرراؤ نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کے شدید مخالف چندرا بابو نائیڈو اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کیلئے آندھرائی نژاد عوام اور تلنگانہ کے عوام کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کے چندر شیکھر راؤ نے عوام سے جاننا چاہا کہ گذشتہ ساڑھے چار سالوں کے دوران ٹی آر ایس حکومت میں کیا آندھرا ئی افراد اور تلنگانہ عوام کے درمیان فرق محسوس کیا گیا ہے ۔ عوام کو اس طرح کے نچلے سطحی سیاسی ہتھکنڈوں سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے صدر ٹی آر ایس نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو آندھرا پردیش کے عوام کیلئے بددعا ہیں، جو آندھرا پردیش کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے تلنگانہ کی سیاست میں زبردستی رول ادا کرنا چاہتے ہیں ۔ جبکہ سابق میں وہ نوٹ برائے ووٹ اسکام میں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے ۔ کے چندر شیکھر راؤ نے مزید کہا کہ تلنگانہ کے امور میں چندرا بابو نائیڈو کی جبراً مداخلت انہیں پھر ایک بار مہنگی پڑسکتی ہے ۔ آندھرا ئی نژاد افراد میں بیرونی ہونے کے احساس کو ختم کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ آپ لوگ اتنے ہی مقامی ہیں جتنے تلنگانہ کے عوام ہیں اور آپ کو فخر کے ساتھ اعتراف کرنا چاہئے کہ آپ کا تعلق تلنگانہ سے ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ٹی آر ایس کبھی بھی آندھرائی افراد کو سیاسی نمائندگی دینے کے خلاف نہیں تھی ۔ جی ایچ ایم سی میں12 سے زیادہ کارپوریٹرس اور گذشتہ اسمبلی میں6 آندھرائی نژاد افراد رکن اسمبلی تھے ۔ کانگریس کی جانب سے ان پر راہول گاندھی کا سامنا کرنے سے خوفزدہ ہونے کے الزام پر تبصرہ کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ جب وہ قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کے لئے اسمبلی تحلیل کرنے کا ہمت والا قدم اٹھاسکتے ہیں ، تو ایسے میں اپوزیشن قائدین کو جان لینا چاہئے کہ وہ کسی بھی قائد کا سامنا کرنے سے پس وپیش نہیں کریں گے ۔ اس کے علاوہ جب انہیں مکمل یقین ہے کہ ٹی آر ایس کا دوبارہ اقتدار حاصل کرنا طئے ہے تو انہیں کسی کا سامنا کرنے سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

جواب چھوڑیں