خشوگی کے قاتل، پرنس محمد کے قریبی آدمی۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمس کی رپورٹ

سعودی صحافی جمال خشوگی کے لاپتہ ہونے کے معاملہ میں ترکی نے جن مشتبہ افراد کی شناخت کی ہے ان میں ایک مملکت کے ولیعہد پرنس محمد بن سلمان کا ساتھی ہے ۔ میڈیا نے یہ اطلاع دی ۔ دیگر تین مشتبہ افراد پرنس محمد کی سیکورٹی سے جڑے ہیں اور پانچواں ایک فارنسک ڈاکٹر ہے ، جو سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ و طبابت میں سینئر عہدہ پر فائز ہے۔ نیو یارک ٹائمز نے منگل کے دن یہ اطلاع دی ۔ ایک مشتبہ شخص ماہر عبدالعزیز مطرب 2007ء میں لندن کے سعودی سفارت خانہ میں سفارت کار رہ چکا ہے۔ برٹیش ڈپلومیٹک روسٹر سے اس کا پتہ چلا ہے۔ وہ کراؤن پرنس کے ساتھ اکثر و بیشتر بحیثیت ِ باڈی گارڈ سفر کرتا رہا ہے۔ دی ٹائمز کے بموجب دیگر تین مشتبہ افراد میں ایک پرنس محمد کی اُس سیکوریٹی ٹیم کا رکن ہے جو پرنس کے ساتھ سفر میں موجود ہوتی ہے۔ دیگر دو افراد سعودی رائل گارڈ کے ارکان ہیں ۔ پانچواں مشتبہ شخص پوسٹ مارٹم کا ماہر ہے۔ ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس شخص نے ٹوئٹر پر خود کو سعودی سائنٹفک کونسل آف فارنسک کا سربراہ بتایا ہے۔ اسی دوران سی این این کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ استنبول (ترکی) میں خشوگی کی بظاہر موت جس سعودی آپریشن میں ہوئی اسے سعودی عرب کی انٹلی جنس سرویس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے چلایا تھا۔ یہ سروس جنرل انٹلیجنس پریسڈنسی کہلاتی ہے ۔ رپورٹ میں اس عہدیدار کو سعودی کراؤن پرنس کے اندرونی حلقہ کا قریبی بتایا گیا ہے۔ اس پیشرفت سے امریکی صدر کا یہ دعویٰ مشتبہ ہوجاتا ہے کہ خشوگی کو سرکش عناصر نے ہلاک کیا ہوگا ۔ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں واشنگٹن کے ایک بہت بڑے حلیف سعودی عرب پر انگلی اٹھانے سے بچ رہے ہیں۔ خشوگی کے لاپتہ ہونے کا الزام سعودی عرب پر عائد کرنے کے بجائے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہاں کے شاہ سلمان پرزور تردید کرچکے ہیں کہ انہیں اس معاملہ کی کوئی جانکاری نہیں۔ امریکی صدر نے کہا تھا کہ خاطی ثابت ہونے تک ریاض کو بے قصور ہی مانا جائے گا۔ پرنس محمد بن سلمان کے ناقد جمال خشوگی خودساختہ جلاوطنی میں امریکہ کے مستقل شہری تھے۔ وہ واشنگٹن پوسٹ میں کالم لکھا کرتے تھے۔ وہ 2 ؍ اکتوبر کو کسی کاغذی کارروائی کے لیے استنبول میں سعودی قونصل خانہ میں داخل ہوئے تھے۔ اس کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں ۔ ترک عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس صحافی کو 15 سعودی عہدیداروں کی اسپیشل ٹیم نے ہلاک کیا ، جسے اسی کام کے لیے استنبول بھیجا گیا تھا۔ اس ٹیم نے خشوگی کا قتل کیا ، نعش کو مسخ کیا اور اُسی دن سعودی عرب لوٹ گئی ۔ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی کراؤن پرنس اور وزارتِ داخلہ سے قربت رکھنے والی ایک سعودی کمپنی کے چارٹر کردہ دو طیارے خشوگی کے لاپتہ ہونے کے دن استنبول آئے اور لوٹ گئے ، تاہم سعودی حکام کا کہنا ہے کہ خشوگی 2 ؍ اکتوبر کی دوپہر قونصل خانہ سے باہر چلے گئے تھے ، تاہم انہوں نے اس کا کوئی ثبوت نہیں پیش کیا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے توثیق کی ہے کہ ترک حکام نے جن 15 مشتبہ افراد کی شناخت کی ہے ان میں کم از کم 9 سعودی سیکورٹی سروس فوج یا دیگر وزارتوں کے لیے کام کرتے ہیں۔ سی این این نے پیر کے دن ذرائع کے حوالے سے کہا تھا کہ سعودی ایک رپورٹ تیار کررہے ہیں ، جس میں اعتراف کرلیا جائے گا کہ خشوگی کی موت دورانِ تفتیش ہوئی ۔ وال اسٹریٹ جنرل نے کہا تھا کہ مملکت ِ سعودی عرب یہ اندازہ لگا رہی ہے کہ یہ کہنا کیسا رہے گا کہ سرکش عناصر نے غلطی سے خشوگی کو مار ڈالا ۔

جواب چھوڑیں