سماج کے سبھی طبقات کا آزادی سے ووٹ ڈالنا ضروری۔ سرسیدڈے پر ایس وائی قریشی کا خطاب

سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے چہارشنبہ کے دن کہا کہ ہندوستان میں انتخابات اُسی وقت بامعنی ہوںگے جب کہ سماج کے سبھی طبقات اپنا حق رائے دہی پوری آزادی کے ساتھ استعمال کرسکیں۔ سرسید ڈے تقاریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے قریشی نے کہا کہ ہندوستان اقلیتوں کی سرزمین ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا امتیاز سبھی کو ساتھ لے کر الیکشن کرانا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سب سے بڑی اقلیت خواتین ہیں ، کیوںکہ وہ رائے دہندوں کی 49 فیصد تعداد ہیں ۔ اگر وہ اپنا حق رائے دہی خوف یا نظم و ضبط کے کسی مسئلہ سے استعمال نہ کرسکیں تو ملک کے جمہوری عمل کی اساس پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے جمہوری نظام میں ہندوستان کے انتخابات کو جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں مذہب ، ذات اور زبان کا اتنا بڑا تنوع نہیں ۔ لازمی ہے کہ سماجی تنوع کے اس وسیع کینوس کا تحفظ کیا جائے ۔ اسے ہمارے جمہوری اداروں کے ذریعہ محفوظ رکھا جائے ۔ بانی ٔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سرسید احمد خان کے رول کے حوالے سے قریشی نے کہا کہ وہ انیسویں صدی کے ہندوستان کی اُن اوّلین شخصیتوں میں ایک تھے جنہوں نے نہ صرف جدید تعلیم کے کاز کی وکالت کی بلکہ صلح صفائی اور تکثیریت کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ۔ سرسید بین مذہبی مفاہمت کے بڑے وکیل تھے۔ جاریہ سال کے سرسید ڈے کی خصوصیت یہ رہی کہ سرسید اکسیلنس ایوارڈ ریختہ فاؤنڈیشن کے بانی سنجے صراف کو دیا گیا ۔ یہ فاؤنڈیشن اردو کے کاز اور ثقافتی ہم آہنگی کو بڑھاوا دینے والی ہندوستان کی سب سے بڑی سماجی تحریک ہے ۔ صراف کو ایک لاکھ روپئے کا انعام دیا گیا۔ دوسرا ایوارڈ تعلیم کے شعبہ میں کرسچن وی ٹرال کو بانی اے ایم یو پر ان کی تحریروں کے لیے دیا گیا۔ ٹرال فی الحال پوپ کے مشیر ہیں ۔ قبل ازیں وائس چانسلر اے ایم یو طارق منصور نے کہا کہ یونیورسٹی ، ٹکنالوجی اور سائنس کے شعبہ میں تیزی سے ترقی کررہی ہے۔ اس سلسلہ میں کئی نئے پروگرامس بشمول ایم وی او سی ، ایم آرک ، ایم ڈی ایس (پڈوڈانٹکس) شروع کیے گئے ہیں ۔ کئی کورسس میں نشستیں بڑھائی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو ملک کی تعمیر نو اور تکثیریت و بین مذہبی مفاہمت کے کلچر کو بڑھاوا دینے میں سرکردہ رول ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

جواب چھوڑیں