صومالیہ میں امریکی فضائی حملہ‘ 60 عسکریت پسند ہلاک

صومالیہ کے شمال مشرق میں امریکی فضائی حملے میں الشباب کے تقریبا 60 شدت پسند مارے گئے۔ امریکہ نے منگل کو ایک بیان میں اس کی اطلاع دی۔ مرنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے یہ اس سال کا سب سے بڑا ہوائی حملہ ہے۔خبررساں ایجنسی کیو این اے نے امریکہ کے افریقہ کمانڈ کے حوالے سے جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق’’یہ اہم فضائی حملہ صومالیہ کی وفاقی حکومت کی حمایت سے ہوا اور الشباب کو ختم کرنے کے لئے ایسے حملے لگاتار جاری رہیں گے۔اس ہوائی حملے سے الشباب کے مستقبل میں حملہ کرنے کی صلاحیت کم ہو گی۔ ان کیقائدانہ نیٹ ورک میں رکاوٹ آئے گی گی اور ان علاقوں میں رسائی کم ہوگی‘‘َ۔کل امریکہ کی افریقی کمانڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ صومالیہ کی حکومت کے تعاون سے کیا گیا۔بیان کے مطابق فضائی حملے میں اب تک کے اندازوں کے مطابق تقریباً 60 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔یہ فضائی حملے پچھلے سال نومبر کے بعد سے الشاب کے خلاف سب سے بڑی کارروائی تھی۔ نومبر کے حملے میں اسلام پسند عسکری گروپ کے 100 کے لگ بھگ جنگجو مارے گئے تھے۔افریقہ کی امریکی کمانڈ نے کہا ہے کہ 12 اکتوبر کی اس کارروائی کے دوران کسی عام شہری کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔الشباب نے ابھی تک فضائی حملے یا ہلاکتوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ایک صومالی عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ حملہ جول نامی دیہات کے نزدیک ہوا جو ہراردیری سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب مغرب میں ہے۔ عہدے دار نے، جس نے اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی درخواست کی، بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 117 ہے۔

جواب چھوڑیں