فلسطین کو اقوام متحدہ میں ترقی پذیر ممالک کی تنظیم جی 77کی سربراہی مل گئی

امریکی مخالفت کے باوجود فلسطین اقوام متحدہ کی اہم باڈی کا سربراہ بن گیا، گروپ آف 77 کی سربراہی کے لیے جنرل اسمبلی میں بھاری اکثریت میں ووٹ ملے۔اقوام متحدہ میں فلسطین کے حق میں 146 اور مخالفت میں 3 ووٹ پڑے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق فلسطین اقوام متحدہ کے گروپ آف 77 کی سربراہی کرے گا، گروپ آف 77 میں چین سمیت اقوام متحدہ کے 134 ملک شامل ہیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکی سفیرنکی ہیلے نے اسے اقوام متحدہ کی غلطی قرار دیا اور کہا کہ ہم فلسطین کو ریاست نہیں مانتے۔علحدہ موصولہ اطلاع کے بموجب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترقی پذیر ممالک کی تنظیم جی-77 کی سربراہی کے لیے فلسطین کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سال 2019 کے جی-77 کے سربراہ ملک کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ جس میں امریکہ، اسرائیل اور آسٹریلیا نے فلسطین کے خلاف ووٹ دیا تاہم 193 اراکین میں 146 نے فلسطین کے حق میں فیصلہ دیا جب کہ 15 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔اقوام متحدہ میں قرارداد کی منظوری کے بعد فلسطین کو خصوصی اختیارات حاصل ہوگئے ہیں جن کے تحت فلسطین ترقی پذیر ممالک کی سب سے بڑی تنظیم جی-77 کی سربراہی بھی کرسکے گا۔ فلسطین جی-77 کے چیئرمین کے حیثیت سے اپنے فرائض یکم جنوری 2019 سے 31 دسمبر 2019 تک انجام دے گا۔فلسطین اقوام متحدہ کا رکن نہیں بلکہ مبصر کی حیثیت سے شرکت کرتا ہے۔ فلسطین کو رواں برس جولائی میں جی-77 کی سربراہی کے لیے نامزد کیا گیا تھا جس کی امریکہ اور اسرائیل نے شدید مخالفت کی تھی اور گزشتہ روز رائے شماری میں بھی فلسطین کی مخالفت میں ووٹ دیا۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے فلسطین کو جی 77 کی سربراہی دینے کو اقوام متحدہ کی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک مبصر ملک کو خصوصی اختیار کے ساتھ 134 ترقی پذیر ممالک کی تنظیم کی سربراہی سونپی جارہی ہے جس کے مثبت نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔

جواب چھوڑیں