لاپتہ صحافی سے متعلق مکمل تفتیش سعودی عرب کرے گا۔مائیک پومپیو کی ترکی آمد

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حقائق معلوم کئے بغیر سعودی عرب کو قصوروار ٹھرانا ٹھیک نہیں۔امریکی خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کو انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے صحافی جمال خشوگی کی پراسرار گمشدگی پر عالمی برادری کی جانب سے سعودی عرب کی مذمت پر تنقید کرتے ہوئے معاملہ کا امریکی سپریم کورٹ میں حالیہ دنوں مقرر ہونے والے جج بریٹ کوانوف پر جنسی ہراساں کرنے کے الزامات سے موازنہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سعودی عرب پر الزامات لگانے سے قبل حقیقت سامنے آنے کا انتظار کرنا چاہیے اور الزامات ثابت ہونے سے قبل کسی کو مورد الزام ٹھہرانا اچھی بات نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے اسی طرح کا معاملہ حال ہی میں جسٹس بریٹ کوانوف کے حوالے سے دیکھا حالانکہ میری نظر میں وہ ہر طرح سے معصوم تھے۔’سعودی عرب کے دفاع میں امریکی صدر کے بیان کو کمزور کہا جارہا ہے جبکہ ان کے اس بیان نے ان کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں کے سعودی قیادت کے مخالف بیانات کو کمزور دیا ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ روز سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک گفتگو کی تھی، جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے معاملے میں کسی بھی طرح کا کردار ادا کرنے کی نفی کی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا تھا کہ صحافی جمال خشوگی کی گمشدگی کے پیچھے آوارہ قاتلوں’ کا ہاتھ ہے۔خبر رساں ادارے کو انٹرویو کے دوران امریکی صدر نے اپنی اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا اپنا خیال ہے اور سعودی فرمانروا نے یہ الفاظ استعمال نہیں کیے۔قبل ازیں ترکی کی ایک اعلیٰ عہدیدار نے ‘اے پی’ کو بتایا کہ معاملے کی تحقیقات کرنے والے تفتیش کاروں کو سعودی قونصل خانے میں جمال خشوگی کو قتل کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔دوسری جانب سعودی عرب کے دورے کے بعد امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو ترکی کے دارالحکومت انقرہ پہنچے، جہاں انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردغان اور وزیر خارجہ سے الگ، الگ ملاقاتیں کیں۔تاہم ان کی ان ملاقاتوں سے متعلق تاحال کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سعودی عرب کا دورہ مکمل کر کے ترکی پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب سے روانگی سے قبل کہا کہ ریاض حکومت استنبول کے قونصل خانہ میں لاپتہ ہونے والے سعودی صحافی جمال خشوگی سے متعلق تفتیش کو حتمی شکل یقینی طور پر دے گی۔ سعودی عرب میں قیام کے دوران پومپیو نے شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے علاوہ وزیر خارجہ عادل الجبیر سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وہ ترکی میں صدر رجب طیب اردغان سے بھی ملاقات کریں گے۔ دوسری جانب امریکی کانگریس کے سینیئر سینیٹر لنڈسے گراہم کے مطابق جمال خشوگی کے قتل کا حکم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا تھا۔

جواب چھوڑیں