مملکتی وزیرخارجہ ایم جے اکبر آخرکار مستعفی ۔ نجی حیثیت سے قانونی لڑائی لڑنے کا عزم ۔ می ٹو تحریک کارگرثابت

کئی خاتون صحافیوں کے جنسی ہراسانی کے الزامات کے زائداز ایک ہفتہ بعد سابق ایڈیٹر ایم جے اکبر نے چہارشنبہ کے دن مملکتی وزیر خارجہ کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ ہندوستانی سیاست میں می ٹو تحریک کا پہلا شکار بنے ہیں۔ استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے مختصر بیان میں مبشرجاوید اکبر نے کہا کہ انہوں نے مناسب سمجھا ہے کہ الزامات کا نجی حیثیت سے قانوناً سامنا کیاجائے۔ دو دن قبل ہی انہوں نے استعفی سے انکارکیاتھا۔ وہ اتوار کو بیرونی دورہ سے ہندوستان لوٹے تھے۔ ایم جے اکبر کا استعفیٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وزیراعظم نریندرمودی کی خاموشی پر اپوزیشن سوال اُٹھارہی ہے۔ ہتک عزت مقدمہ دائرکرنے کے باوجود بڑھتے الزامات کے مدنظر ایم جے اکبر کی حکومت میں برقراری غیریقینی لگ رہی تھی۔ اکبر نے کہا کہ میں نے نجی حیثیت سے عدالت سے انصاف طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں نے مناسب سمجھا کہ وزارت چھوڑدوں اور مجھ پرعائد الزامات کا نجی حیثیت سے سامنا کروں۔ اسی لئے میں نے مملکتی وزیر خارجہ کا عہدہ چھوڑدیا ہے۔ میں وزیراعظم نریندرمودی اور وزیرخارجہ سشما سوراج کا شکر گذارہوں کہ انہوں نے مجھے میرے ملک کی خدمت کا موقع دیا۔ اتوار کے دن بیرونی دورہ سے واپسی کے بعد ایم جے اکبر نے 15 خاتون صحافیوں کے الزامات کو بیہودہ ، بے بنیاد اور جھوٹے قراردیاتھا اور الزام عائد کرنے والیوں کے خلاف قانونی کاروائی کی دھمکی دی تھی۔ پیر کے دن انہوں نے پریہ رمانی کے خلاف فوجداری ہتک عزت مقدمہ دائرکردیا۔ اکبر کے خلاف سب سے پہلے پریہ رمانی ہی سامنے آئی تھیں۔ کانگریس نے اکبر کے استعفی اور برطرفی کا مطالبہ کیاتھا جبکہ بی جے پی قائدین نے پراسرارخاموشی اختیارکرلی تھی۔

جواب چھوڑیں